اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک بار پھر فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تہران نے جوہری یا بیلسٹک میزائل پروگرام دوبارہ شروع کیا تو اسے نشانہ بنایا جائے گا۔ اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن نے یہ بات اسرائیلی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔
ایلی کوہن کے مطابق ایران اگر امریکا کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچ بھی جاتا ہے، تب بھی اسرائیل اپنے سکیورٹی مفادات کو مقدم رکھے گا اور ایران کی جانب سے جوہری یا بیلسٹک میزائل صلاحیتیں بحال کرنے کی صورت میں دوبارہ حملہ کرسکتا ہے۔
اسرائیلی وزیر نے دعویٰ کیا کہ اگر اسرائیل نے ایران کے خلاف کارروائی نہ کی ہوتی تو تہران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکا ہوتا۔ ان کے بقول امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جنگ کے خاتمے اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سفارتی کوششیں جاری ہیں، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے بھی بات چیت کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
واضح رہے کہ 28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی تھی، جس میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور متعدد اعلیٰ فوجی حکام ہلاک ہوئے تھے۔
نوٹ: آپ کے دیے گئے متن میں موجود یہ دعویٰ کہ حملوں نے ایرانی جوہری پروگرام کو “دو، چار سال” پیچھے دھکیل دیا، میں نے اسے قطعی حقیقت کے بجائے اسرائیلی وزیر کا دعویٰ بنا کر لکھا ہے۔ موجودہ رپورٹس بھی ایران کی جوہری صلاحیت کو پہنچنے والے نقصان اور اس کی مدت کے بارے میں مختلف اندازے دیتی ہیں۔