اسلام آباد مذاکرات کے بعد کشیدگی میں اضافہ، ایران کی امریکی ناکہ بندی پر سخت ردعمل

فہرستِ مضامین

اسلام آباد میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی پاکستانی قیادت سے ملاقاتوں کے بعد خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو اس وقت دھچکا لگا ہے جب دوسرے دور کے مذاکرات کے امکانات کمزور پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد سے روانگی کے بعد سفارتی پیش رفت کی امیدوں کو اس وقت بڑا نقصان پہنچا جب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی۔

ایران کی مسلح افواج کے مرکزی کمانڈ سینٹر خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی بحری ناکہ بندی اور “سمندری کارروائیاں” جاری رہیں تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی افواج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ان کی دفاعی صلاحیت پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ امریکی افواج پہلے بھی ایران کی دفاعی صلاحیتوں کا “جزوی مشاہدہ” کر چکی ہیں۔

ایرانی فوج نے مزید کہا کہ وہ خطے میں دشمن کی تمام سرگرمیوں اور نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور انتظام بدستور برقرار ہے۔

یہ سخت بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسلام آباد میں عباس عراقچی کی وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر سے ملاقاتوں کے باوجود امریکی وفد کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے آغاز میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

رپورٹس کے مطابق امریکی وفد کی آمد بھی متوقع تھی، تاہم صورتحال غیر یقینی کا شکار رہی۔ عراقچی اسلام آباد سے اس مؤقف کے ساتھ روانہ ہوئے کہ ایران مذاکرات کی میز پر تبھی بیٹھے گا جب اس کی بندرگاہوں پر جاری امریکی بحری ناکہ بندی ختم کی جائے گی۔

دوسری جانب امریکی مؤقف میں کہا جا رہا ہے کہ پابندیاں اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔

یاد رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 13 اپریل کو ایران پر مکمل بحری دباؤ اور ناکہ بندی کے احکامات جاری کیے تھے، جو اس سے قبل شروع ہونے والے مذاکراتی عمل کے تعطل کے بعد سامنے آئے تھے، جن کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کو کم کرنا تھا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں