اسلام آباد میں مصروف سفارتی دن کے بعد ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی آج وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات مکمل کرنے کے بعد وطن واپس روانہ ہو جائیں گے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کا پاکستان میں قیام بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں، اور اہم ملاقاتوں کے بعد وفد فوری طور پر اگلے مرحلے کی جانب روانہ ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عباس عراقچی اپنے وفد کے ہمراہ عمان اور روس کا دورہ بھی کریں گے، جہاں مزید سفارتی روابط کو آگے بڑھایا جائے گا۔
جوہری معاملہ زیر بحث نہیں آئے گا
ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے واضح کیا ہے کہ اس دورے کا دائرہ کار صرف پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات تک محدود رہے گا۔ ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی کیونکہ یہ معاملہ تہران کی “ریڈ لائن” تصور کیا جاتا ہے۔
خطے میں بیک وقت سفارتی پیش رفت
یاد رہے کہ گزشتہ روز عباس عراقچی کی قیادت میں ایرانی وفد اسلام آباد پہنچا تھا، جس کے ساتھ ہی خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی ہے کہ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر آج پاکستان پہنچ رہے ہیں، جہاں ممکنہ امن مذاکرات میں شرکت متوقع ہے۔
بڑھتی سفارتی ہلچل
ایک ہی وقت میں ایران اور امریکہ کے اعلیٰ سطحی وفود کی پاکستان آمد نے اسلام آباد کو خطے کی اہم سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا ہے، جہاں آنے والے دنوں میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔