اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر ہفتہ کے روز پاکستان پہنچیں گے، جبکہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی پہلے ہی ایک مختصر وفد کے ساتھ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔
یہ اہم پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کئی دنوں سے تعطل کا شکار ہیں اور یہ غیر یقینی صورتحال برقرار ہے کہ آیا ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے گا یا نہیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی ایک “کھلی کھڑکی” موجود ہے تاکہ وہ کسی معاہدے پر پہنچ کر قابلِ تصدیق طریقے سے اپنے جوہری عزائم ترک کرے۔
جنگ کا 57واں دن: اہم پیش رفت
ایران میں
امریکہ نے ایران سے منسلک 344 ملین ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔ وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق یہ اقدام جنگ کے باعث توانائی کی سپلائی میں خلل کے دوران تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیا گیا۔
سفارتی محاذ
اسلام آباد میں سفارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں، جہاں عباس عراقچی مذاکرات کے لیے پہنچ چکے ہیں جبکہ امریکی ایلچیوں کی آمد بھی متوقع ہے۔ تاہم اب تک یہ واضح نہیں کہ ایران باضابطہ مذاکرات میں شرکت کرے گا یا نہیں۔
یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بغیر کسی پابندی اور ٹول کے کھولا جائے۔
دوسری جانب، رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتکاری کا عمل مکمل طور پر بند نہیں ہوا، اگرچہ فی الحال اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات طے نہیں ہیں۔ پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور محتاط امید کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
خطے میں کشیدگی
کویت کی شمالی سرحدی چوکیوں پر عراق سے داغے گئے دو ڈرونز گرے، جس سے نقصان ہوا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ عراقی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
امریکہ میں اقدامات
امریکہ نے روسی تیل کی ترسیل سے متعلق چھوٹ میں توسیع سے انکار کر دیا ہے، جبکہ ایرانی تیل کے لیے کسی بھی رعایت کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔
مزید برآں، واشنگٹن نے ایران کے تیل کے نیٹ ورک کو نشانہ بناتے ہوئے ایک بڑی چینی ریفائنری سمیت تقریباً 40 شپنگ کمپنیوں اور ٹینکرز پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی فوج نے بھی خطے میں اپنی موجودگی بڑھاتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں تین طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کر دیے ہیں، جو 2003 کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔