سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کے رکن کو 12 مئی کے حوالے سے قرارداد پر بات کرنے کی اجازت دینے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رکن اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نثار احمد کھوڑو اور اسپیکر سید اویس قادر شاہ کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔
نثار کھوڑو کو مناسب جواب نہ ملنے پر وہ ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے۔
اجلاس کے دوران سندھ میں کاروکاری کے واقعات کے خلاف، سندھ میں گیس کی قلت ختم کرنے، اور بحریہ ٹاؤن انتظامیہ سے واپس لیے گئے 190 ارب روپے سندھ میں خرچ کرنے سے متعلق قراردادیں مشترکہ طور پر منظور کی گئیں۔
اجلاس کی تفصیل
اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں اس وقت صورتحال کشیدہ ہوگئی جب انہوں نے ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر طاہر احمد کو 12 مئی سے متعلق قرارداد پر بات کرنے کی اجازت دی۔
پاکستان تحریک انصاف کی حمایت یافتہ رکن شبیر قریشی نے 12 مئی کے واقعے کے خلاف ایک آئوٹ آف ٹرن قرارداد پیش کی، جس پر اسپیکر نے ایم کیو ایم کے رکن طاہر احمد کو بولنے کی اجازت دی۔
پارلیمانی امور کے وزیر ضیا لنجار نے قرارداد کی مخالفت کی، جس پر اسپیکر نے ووٹنگ کرائی۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی مخالفت کے باعث قرارداد اکثریت سے مسترد ہوگئی۔
نثار کھوڑو کا احتجاج
قرارداد مسترد ہونے کے فوراً بعد نثار احمد کھوڑو کھڑے ہوئے اور اسپیکر سے مخاطب ہو کر کہا کہ آئین و قواعد کے خلاف ایم کیو ایم کے رکن کو کیوں بولنے دیا گیا۔
اسپیکر نے جواب دیا کہ جب قرارداد ایوان میں پیش ہو چکی ہو تو کسی کو بولنے سے روکنا قواعد کے خلاف نہیں۔
نثار کھوڑو نے کہا کہ اگر یہی صورتحال ہے تو وہ احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہیں۔ اسپیکر نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا: “جیسی آپ کی مرضی۔”
نثار کھوڑو کے واک آؤٹ کے بعد ایم کیو ایم کے رکن طاہر احمد نے کھڑے ہو کر کہا کہ کسی رکن کو اسپیکر سے اس انداز میں بات نہیں کرنی چاہیے۔
وزیر پارلیمانی امور ضیا لنجار نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ طاہر احمد کو مائیک نہ دیا جاتا اور ان کے الفاظ حذف کیے جائیں۔
اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے سخت لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ آپ کی بات ٹھیک ہے مگر آئندہ احتیاط کی جائے۔
واک آؤٹ کے بعد نثار احمد کھوڑو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اعتراض یہ ہے کہ جب 12 مئی والی قرارداد خود آئوٹ آف ٹرن لائی گئی تھی تو ایم کیو ایم کے رکن کو بولنے کی اجازت کیوں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ان کی کسی سے کوئی گروہ بندی نہیں، اور وہ صرف یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتے تھے کہ یہ کارروائی قواعد کے خلاف تھی۔
اس سے قبل متحدہ کے رکن عادل عسکری کی پیش کردہ قرارداد منظور کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بحریہ ٹاؤن سے وصول کیے گئے سندھ کے 190 ارب روپے اسلام آباد میں یونیورسٹی بنانے کے بجائے سندھ میں ہی خرچ کیے جائیں۔
عادل عسکری نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن سے حاصل ہونے والی زمین کی رقم اس وقت تقریباً 60 ارب روپے ہے، جو سندھ کے عوام کا حق ہے اور اسے واپس سندھ کو دیا جانا چاہیے۔
غیرت کے نام پر قتل پر قرارداد
متحدہ قومی موومنٹ کی رکن بلقیس مختار کی جانب سے ٹنڈو مستی میں غیرت کے نام پر قتل کی گئی خاتون روبینہ چانڈیو کے قاتلوں کی گرفتاری اور سخت سزا سے متعلق قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔
وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر تمام ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جن میں مرکزی ملزم، جرگہ کرنے والے اور ویڈیو بنانے والے بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قانون سب پر لاگو ہے اور ملزمان کو آئین کے مطابق سزا دی جائے گی۔
دیگر منظور شدہ قراردادیں
اپوزیشن رکن اویس احمد کی جانب سے سندھ میں گیس کی لوڈشیڈنگ کے خلاف قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور ہوئی۔
اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کے رکن سجاد سومرو کی جانب سے تمام الیکٹرک گاڑیاں خریدنے کی پالیسی بنانے سے متعلق قرارداد بھی اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی۔