واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے اشارے کے بعد سفارتی حلقوں میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جبکہ اطلاعات ہیں کہ تہران آئندہ چند گھنٹوں میں امریکا کی 14 نکاتی جنگ بندی تجویز پر اپنا باضابطہ مؤقف پیش کر سکتا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ایک علاقائی ذریعے نے بتایا ہے کہ ایرانی قیادت اس تجویز کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور امکان ہے کہ آج ہی واشنگٹن کو جواب بھجوا دیا جائے۔
ذرائع کے مطابق امریکی منصوبے میں ایران سے یہ تحریری یقین دہانی طلب کی گئی ہے کہ وہ مستقبل میں ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ اس کے ساتھ فوردو، نطنز اور اصفہان کی جوہری تنصیبات بند کرنے کی شرط بھی شامل ہے۔
تجویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران آئندہ 20 برس تک یورینیم افزودگی روک دے گا، جبکہ اس کے پاس موجود تقریباً 400 کلوگرام اعلیٰ افزودہ یورینیم کسی تیسرے ملک یا عالمی ادارے کے سپرد کیا جائے گا۔ اگرچہ اس حوالے سے حتمی نام سامنے نہیں آیا، تاہم روس ماضی میں یہ مواد لینے کی پیشکش کر چکا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق معاہدے کی صورت میں ایران کی بندرگاہوں پر جاری بحری دباؤ کم کر دیا جائے گا، جبکہ تہران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر عائد عملی پابندیاں ختم کرے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پی بی ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے عندیہ دیا کہ امریکا شاید ایرانی یورینیم اپنے قبضے میں نہ لے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو زیر زمین جوہری تنصیبات دوبارہ فعال نہ کرنے کی ضمانت دینا ہوگی۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر معاہدہ طے پا گیا تو ایران پر عائد بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی جا سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کیں تو فوجی کارروائی پہلے سے زیادہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ امریکی تجاویز اب بھی غور کے مرحلے میں ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی ہے کہ حالیہ کشیدگی میں کمی مستقل امن معاہدے کی بنیاد بن سکتی ہے۔
واضح رہے کہ 28 فروری سے جاری تنازع کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت محدود کر دی تھی، جس کے جواب میں امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کے گرد بحری دباؤ بڑھا دیا تھا تاکہ تہران کو مذاکرات پر آمادہ کیا جا سکے۔