واشنگٹن/تہران: امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی میں مزید شدت آ گئی ہے۔ امریکی افواج نے مسلسل چوتھی رات ایران کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے بھی خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بحال کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں، جس سے خطے میں جون کے دوران ہونے والی عارضی جنگ بندی بھی غیر مؤثر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
ٹرمپ کی نئی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تہران مذاکرات پر آمادہ نہ ہوا تو آئندہ مرحلے میں بجلی گھروں، پلوں اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی حکام نے ایرانی قیادت تک واضح پیغام پہنچا دیا ہے کہ معاہدہ کرنا ہی ان کے لیے بہتر راستہ ہے۔
سات گھنٹے تک امریکی کارروائیاں
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق تازہ فوجی آپریشن تقریباً سات گھنٹے جاری رہا، جس میں لڑاکا طیاروں، جنگی بحری جہازوں اور ڈرونز نے آبنائے ہرمز اور ایران کے ساحلی علاقوں کے قریب متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی ان عسکری صلاحیتوں کو نقصان پہنچانا تھا جو تجارتی بحری جہازوں کے لیے خطرہ بن رہی تھیں، تاہم حملوں میں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ایران پر سنگین الزامات
سینٹ کام کے سربراہ نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز میں سات تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک، زخمی یا لاپتا ہوئے۔
امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران نے پڑوسی خلیجی ممالک کی جانب متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس سے خطے کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوئے۔
آبنائے ہرمز بند رکھنے کا اعلان
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکی کارروائیاں ختم نہیں ہو جاتیں۔
ایران کی نئی قائم کردہ “پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی” کے مطابق امریکی فوجی نقل و حرکت کے باعث اس اہم بحری گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت فی الحال معطل کر دی گئی ہے، جبکہ حالات معمول پر آنے کے بعد ہی بحری ٹریفک بحال کی جائے گی۔
ایران کے جوابی دعوے
ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں واقع ازرق ایئر بیس پر موجود امریکی تنصیبات کو دوبارہ ڈرون حملے میں نشانہ بنایا ہے، تاہم اس دعوے کی امریکا یا اردن نے تاحال تصدیق نہیں کی۔
ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات اور اسلحہ ذخیرہ گاہوں پر حملے کیے گئے، لیکن ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ
بحرین میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر ملک بھر میں سائرن بجائے گئے، جبکہ کویتی فوج نے اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی ڈرونز کا مقابلہ کیا۔ کویتی حکام کے مطابق ایک مقام پر آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
امریکا نے بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی
امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والے بحری جہازوں پر ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی گئی ہے۔ سینٹ کام کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکی بحریہ کے 20 سے زائد جنگی جہاز، سینکڑوں لڑاکا طیارے اور بڑی تعداد میں فوجی مکمل آپریشنل حالت میں موجود ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات خطے میں تجارتی بحری راستوں کے تحفظ اور امریکی مفادات کے دفاع کے لیے کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ امریکی دباؤ کا بھرپور جواب دیتا رہے گا۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری اس کشیدگی کے باعث پورا خطہ ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور عالمی برادری دونوں ممالک سے تحمل اور سفارتی حل اختیار کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔