امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا کو امید ہے کہ ایران جمعہ کے روز جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکی تجویز پر اپنا باضابطہ ردعمل دے گا۔
اطالوی دارالحکومت روم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا کو جلد ایران کا جواب ملنے کی توقع ہے، اور یہ جواب اگر سنجیدہ ہوا تو مذاکرات کا نیا دروازہ کھل سکتا ہے۔
“ہم دیکھیں گے کہ جواب میں کیا شامل ہے۔ امید ہے کہ یہ ایک سنجیدہ پیشکش ہوگی جو ہمیں حقیقی مذاکرات کی طرف لے جائے۔”
روبیو کے مطابق امریکا کو اسی دن یا بہت جلد ایران کے موقف کا علم ہو جائے گا، اور واشنگٹن امید رکھتا ہے کہ بات چیت کا عمل آگے بڑھ سکے گا۔
کشیدگی کے سائے میں سفارتکاری
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد خطے میں حالات نازک ہو چکے ہیں۔
گزشتہ دنوں آبنائے ہرمز میں بحری تنازع، میزائل حملوں اور جوابی کارروائیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
آبنائے ہرمز پر ایران کے مبینہ منصوبے پر اعتراض
امریکی وزیر خارجہ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے ایک ادارہ قائم کرنے کی رپورٹس کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام “ناقابل قبول” ہے۔
“کیا دنیا یہ قبول کرے گی کہ ایران ایک بین الاقوامی آبی راستے کو کنٹرول کرے؟”
روبیو نے عالمی برادری سے بھی سوال کیا کہ وہ اس صورتحال پر کیا مؤقف اپنائے گی۔
سخت وارننگ: امریکی بحریہ پر حملہ تباہی کا باعث ہوگا
مارکو روبیو نے ایران کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تو واشنگٹن سخت ردعمل دے گا۔
“سرخ لکیر واضح ہے۔ اگر امریکیوں کو خطرہ ہوا تو انہیں تباہ کر دیا جائے گا۔”
یہ بیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نسبتاً نرم مؤقف سے مختلف سمجھا جا رہا ہے، جنہوں نے حالیہ بحری جھڑپوں کو کم اہم قرار دیا تھا۔
سفارتی کوششیں اور دباؤ
روم اور ویٹی کن کے دورے کے دوران روبیو نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، جنگ بندی کے امکانات اور خطے کی صورتحال پر بھی بات کی۔
ادھر متحدہ عرب امارات نے بھی حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے، جبکہ امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جہازوں پر حملے ناکام بنا دیے ہیں۔