امریکا ایران جنگ، تہران پر بمباری، ایران کا کویت، بحرین اور اردن میں امریکی اہداف پر جوابی وار

فہرستِ مضامین

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکی فوج نے ایران کے شمالی علاقوں اور دارالحکومت تہران کے قریب پہلی بار فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق جمعرات کی صبح ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون تنصیبات سمیت ساحلی نگرانی کے مراکز پر حملے کیے گئے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا اور ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق بندر عباس سمیت متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اس سے قبل گریٹر تنب جزیرے پر بھی ساحلی دفاعی نظام اور کروز میزائل تنصیبات پر بمباری کی گئی۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا نے بندر عباس، قشم، سیریک، چاہ بہار، کنارک، راسک، خنداب، خرم آباد اور سمنان میں بھی حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اہواز کے ایک اسپتال پر حملے کے بعد 211 مریضوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا پڑا، جبکہ تہران، پاکدشت اور پرچین میں فضائی دفاعی نظام بھی فعال کر دیا گیا۔ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ اندیمشک کے اوپر ایک امریکی MQ-9 ڈرون مار گرایا گیا۔

ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب بڑھنے والے ایک آئل ٹینکر کو ہیل فائر میزائلوں سے ناکارہ بنا دیا، جسے امریکی بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کا حصہ قرار دیا گیا۔

ایران کا جوابی ردعمل

ایران کی مسلح افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

کویت میں علی السالم ایئربیس پر موجود امریکی ریڈار، پیٹریاٹ دفاعی نظام اور ایندھن کے ذخائر پر حملے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ اردن کے الازرق ایئربیس میں امریکی مواصلاتی نظام اور فیول ڈپو کو بھی نشانہ بنانے کی بات کی گئی۔

بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئربیس پر امریکی سپر ہاک ریڈار اور پیٹریاٹ سسٹمز پر ڈرون حملوں کا دعویٰ بھی ایرانی فوج نے کیا۔

دوسری جانب اردن نے کہا ہے کہ اس نے ایران کے آٹھ میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے، جبکہ عراق کے شہر اربیل میں بھی ڈرون حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جن میں دو ڈرون امریکی فوجی اڈے کے قریب گرے اور ایک امریکی قونصل خانے کے نزدیک مار گرایا گیا۔

دونوں ممالک کے بیانات

ایران کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اگر امریکا عبوری معاہدے کی شرائط پر عمل نہیں کرتا تو ایران مکمل فوجی تصادم کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہی تو مشرقِ وسطیٰ سے تیل اور گیس کی برآمدات روک دی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ “یا تو توانائی کی برآمد سب کے لیے ہوگی یا پھر کسی کے لیے نہیں۔”

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران پس پردہ امن معاہدہ چاہتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو امریکا کارروائی مکمل کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکی شہری ڈینا کراری کی رہائی پر ایران کا شکریہ بھی ادا کیا، جسے امریکا 2024 سے ایران میں غلط طور پر قید قرار دیتا رہا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا کہ اگرچہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی ضروری تھی، تاہم تنازع کے مستقل خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان کسی نہ کسی معاہدے کی ضرورت ہوگی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں