امریکا ایران کشیدگی خطرناک موڑ پر، ٹرمپ نے جنگ بندی کو “وینٹی لیٹر پر” قرار دے دیا

فہرستِ مضامین

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کرگئی ہے۔ تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ نازک جنگ بندی کو “زندگی اور موت کی حالت” میں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ اب صرف “میسیو لائف سپورٹ” پر قائم ہے۔

صدر ٹرمپ نے پیر کے روز ایران کی جانب سے بھیجے گئے تازہ امن منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے “احمقانہ” اور “بکواس” قرار دیا۔ دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایرانی افواج ہر ممکن ردعمل کے لیے تیار ہیں، اور اگر امریکا نے حملہ کیا تو واشنگٹن کو ایسا جواب ملے گا جس کی اسے توقع نہیں ہوگی۔

دونوں ممالک کے درمیان تلخ بیانات کے بعد جنگ ختم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششیں مزید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوگئی ہیں۔ اس تنازع نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی منڈیوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے، جبکہ تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات بڑھتے جارہے ہیں۔

ایران کے اندر کیا ہورہا ہے؟

ایرانی حکام نے سابق قومی فٹبال کپتان علی کریمی سے منسلک چھ جائیدادیں ضبط کرنے کا اعلان کیا ہے۔ علی کریمی جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ایرانی حکومت کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں۔

ایران کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ تہران نے امریکی امن تجویز کے جواب میں جنگ کے خاتمے اور منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد صرف اپنے “جائز حقوق” کا حصول ہے۔

سفارتی کوششیں تعطل کا شکار

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات تقریباً رک چکے ہیں۔ تہران نے واشنگٹن پر “غیر معقول مطالبات” عائد کرنے کا الزام لگایا، جبکہ ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ ان کی اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران پہلے افزودہ یورینیم ختم کرنے پر آمادہ ہوگیا تھا، لیکن بعد میں اس نے اپنا مؤقف بدل لیا۔ دوسری جانب ایرانی حکام اس بات کی “مضبوط ضمانت” چاہتے ہیں کہ مستقبل میں دوبارہ جنگ شروع نہ ہو۔

آبنائے ہرمز پر دنیا کی نظریں

ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ اگر کشیدگی بڑھی تو آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں عالمی معیشت کے لیے شدید بحران پیدا کرسکتی ہیں۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر برطانیہ اور فرانس نے 40 ممالک کے وزرائے دفاع کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے تاکہ تیل اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت بحال رکھنے کے اقدامات پر غور کیا جاسکے۔

ادھر امریکا اور برطانیہ نے ایران کے تیل کی چین کو فروخت سے متعلق 12 افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں بھی عائد کردی ہیں۔

جنگ کے اثرات امریکا تک پہنچ گئے

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث ڈیزل مہنگا ہونے لگا ہے، جس سے امریکا میں ٹرانسپورٹ اور سپر مارکیٹ کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے وفاقی گیس ٹیکس معطل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

اسرائیل اور لبنان میں بھی بے چینی

اسرائیل کے شہری ہوا بازی کے سربراہ شموئیل زکائی نے کہا ہے کہ تل ابیب کے بین گوریان ایئرپورٹ پر امریکی فوجی سرگرمیوں کے باعث سول پروازیں متاثر ہورہی ہیں، جبکہ غیر ملکی ایئرلائنز کی واپسی میں بھی تاخیر ہورہی ہے۔

دوسری جانب لبنان نے بیروت میں امریکی سفیر سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل پر دباؤ ڈال کر حملے رکوائے جائیں۔ جنوبی لبنان کے شہر صور سے آنے والی رپورٹس کے مطابق کئی خاندان بار بار نقل مکانی سے تنگ آچکے ہیں اور شدید بمباری کے باوجود اپنے گھروں کو دوبارہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں