واشنگٹن: امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاری سفارتی کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے قریبی ساتھیوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر کو مذاکرات کے لیے اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق دو اعلیٰ حکام نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم سفارتی کوشش کا حصہ ہے۔
نائب صدر کی عدم شرکت، مگر رابطہ برقرار
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس فی الحال پاکستان کا دورہ نہیں کریں گے۔ ذرائع کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اس مرحلے پر مذاکراتی عمل میں شامل نہیں ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق قالیباف کو ممکنہ طور پر ایرانی وفد کے سربراہ اور جے ڈی وینس کے ہم منصب کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اسی لیے نائب صدر کی عدم موجودگی کو سفارتی توازن کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
مذاکرات میں پیش رفت کی صورت میں دورہ ممکن
حکام کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو جے ڈی وینس کسی بھی وقت پاکستان آنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا عملہ پہلے ہی اسلام آباد میں موجود ہوگا اور پسِ پردہ مذاکراتی عمل میں شریک رہے گا۔
سفارتی سرگرمیاں عروج پر
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد خطے میں اہم سفارتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے اور امریکہ، ایران سمیت دیگر فریقین کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔