امریکا نے ایران پر نئے فضائی حملے کر دیے، آبنائے ہرمز پر کشیدگی مزید بڑھ گئی

فہرستِ مضامین

واشنگٹن / تہران: امریکا نے ایک بار پھر ایران کے مختلف فوجی اہداف پر فضائی حملوں کا نیا مرحلہ شروع کر دیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی بحال کرنے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد امریکی افواج نے ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی کارروائیاں کیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نہ صرف آبنائے ہرمز میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گا بلکہ وہاں سے گزرنے والے بین الاقوامی تجارتی جہازوں سے سکیورٹی کے بدلے فیس بھی وصول کی جائے گی، جسے امریکی بحری پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے قریب متحدہ عرب امارات کے دو آئل ٹینکروں کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ رپورٹس کے مطابق حملوں میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے، جس کے بعد امارات نے سخت ردعمل دیتے ہوئے مناسب وقت پر جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔

آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے، ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر تقریباً 84.80 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جو حالیہ ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔

امریکی فوج کا دعویٰ

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق تازہ فضائی آپریشن تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہا، جس میں بوشہر، بندر عباس، چاہ بہار، جاسک، کنارک اور ابو موسیٰ سمیت مختلف علاقوں میں ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

سینٹ کام کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد ایران کی بحری، میزائل اور ڈرون صلاحیت کو محدود کرنا اور تجارتی جہازوں پر حملوں کی صلاحیت کو کمزور بنانا تھا۔ امریکی فوج کے مطابق مشرق وسطیٰ میں موجود 50 ہزار سے زائد امریکی اہلکار ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ٹرمپ کا سخت مؤقف

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور امریکا آبنائے ہرمز پر اپنی حکمت عملی مزید مضبوط کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک کی حفاظت کر رہا ہے، اس لیے اب وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو سکیورٹی کے اخراجات ادا کرنا ہوں گے۔

ایران کا ردعمل

ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو منظم کرنا اس کا حق ہے اور امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی یا متبادل راستے قائم کرنے کی کوششیں بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ جن آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا، وہ بارہا وارننگ کے باوجود حساس سمندری علاقے سے گزر رہے تھے۔

بحرین میں بھی ہائی الرٹ

ایرانی میزائل حملوں کے بعد بحرین میں بھی خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں، تاہم فوری طور پر کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

عالمی تشویش میں اضافہ

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ٹول یا فیس نافذ کرنے کی کوششیں جاری رہیں تو یہ عالمی سمندری قوانین اور آزاد جہاز رانی کے اصولوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور عالمی معیشت پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

نوٹ: اس خبر میں شامل دعوے امریکا، ایران اور دیگر متعلقہ فریقوں کے سرکاری بیانات پر مبنی ہیں۔ جنگی حالات میں تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں ہوتی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں