واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں اعلیٰ عسکری اور قومی سلامتی حکام کا ہنگامی اجلاس طلب کیا، جس میں ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کو مزید وسعت دینے اور نئی فوجی حکمتِ عملی پر غور کیا گیا۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اجلاس میں ایران پر دباؤ مزید بڑھانے کے مختلف آپشنز زیرِ بحث آئے تاکہ تہران کو آبنائے ہرمز کھولنے اور اپنے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی مطالبات ماننے پر مجبور کیا جا سکے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں مسلسل چوتھے روز بھی جاری رہیں۔ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز اور ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں کئی اہم عسکری اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار اسٹیشن، ساحلی میزائل تنصیبات اور ڈرون لانچنگ مراکز شامل تھے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا بنیادی مقصد ایران کی اس صلاحیت کو محدود کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی خطے میں امریکی مفادات پر دباؤ برقرار رکھتے ہوئے اردن، کویت اور بحرین میں قائم امریکی فوجی اڈوں کی جانب میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رکھا، جبکہ امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی مزید سخت کر دی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایران نے سات تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جن کے نتیجے میں متعدد شہری عملہ ہلاک، زخمی یا لاپتا ہوا۔ ان کے مطابق اس کے باوجود امریکی بحریہ نے تقریباً 300 تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے میں مدد فراہم کی۔
ایران کے حساس اہداف پر نئی منصوبہ بندی
ذرائع کے مطابق سچویشن روم کے اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس جنرل ڈین کین، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
اجلاس میں ایران کی حساس اور اسٹریٹجک تنصیبات پر ممکنہ نئے حملوں کی منصوبہ بندی پر غور کیا گیا، جبکہ آبنائے ہرمز کے گرد جاری فوجی آپریشن کو مزید مؤثر بنانے کے مختلف اقدامات بھی زیرِ بحث آئے۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے اجلاس کی تفصیلات پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔
ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ
اجلاس سے قبل ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ آنے والے دنوں میں ایران کے خلاف امریکی کارروائیاں مزید تیز کی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر واپس نہ آیا تو اس کے اہم بنیادی ڈھانچے، جن میں بجلی گھر اور پل شامل ہیں، ممکنہ اہداف بن سکتے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتہ ایران کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکا ہر ممکن آپشن پر غور کر رہا ہے۔
زیرِ زمین تنصیب پر بھی نظر
صدر ٹرمپ نے ایک زیرِ زمین مقام پر ہونے والی مبینہ سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ امریکا اس مقام کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے، کیونکہ خدشہ ہے کہ اسے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس مقام پر جوہری سرگرمیوں کے حتمی شواہد موجود نہیں، تاہم کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں امریکا فوری اور بھرپور کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ امریکی نمائندوں نے منگل کو ایرانی حکام سے رابطہ کیا اور انہیں ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا پیغام دیا۔ ان کے مطابق امریکا اب بھی سفارتی حل چاہتا ہے، تاہم اگر پیش رفت نہ ہوئی تو دیگر تمام آپشنز بھی زیرِ غور رہیں گے۔