امریکا کو ایران کے جواب کا انتظار، آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار

فہرستِ مضامین

واشنگٹن: امریکی وزیرِ خارجہ Marco Rubio نے کہا ہے کہ امریکا کو توقع ہے کہ ایران جنگ بندی سے متعلق امریکی تجویز پر جمعہ کے روز اپنا باضابطہ جواب دے گا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ واشنگٹن تہران کے ردِعمل کا انتظار کر رہا ہے، جبکہ خطے میں سفارتی اور عسکری کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایرانی اور امریکی بحری افواج کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کے بحری جہاز حساس سمندری گزرگاہ میں ایک دوسرے کے سامنے آتے رہے، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

ادھر ایران کے وزیرِ خارجہ Abbas Araghchi نے امریکا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی سفارتی حل کا موقع پیدا ہوتا ہے، واشنگٹن “غیر ذمہ دارانہ فوجی مہم جوئی” کا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا امریکا مذاکرات کے بجائے دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی اپنا رہا ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں کسی بھی ممکنہ سفارتی پیش رفت کو متاثر کر سکتی ہیں۔

دریں اثنا لبنان میں اسرائیلی حملوں میں مزید شدت آ گئی ہے۔ جمعہ کے روز ہونے والی بمباری کو اسرائیلی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے خونریز ترین دنوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے، جہاں درجنوں افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ United States آئندہ 14 اور 15 مئی کو Israel اور Lebanon کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔ یہ مذاکرات واشنگٹن ڈی سی میں ہوں گے اور امریکا ثالثی کا کردار ادا کرے گا۔

خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز اور لبنان کی صورتحال عالمی منڈیوں اور سفارتی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں