امریکہ-ایران مذاکرات: براہِ راست بات چیت تاحال غیر یقینی

فہرستِ مضامین

اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کے اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کے لیے پس پردہ کوششیں جاری ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی گزشتہ روز اسلام آباد پہنچنے کے بعد پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، جبکہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر کی آج پاکستان روانگی متوقع ہے۔

تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ فی الحال امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں، جس سے صورتحال مزید غیر یقینی کا شکار دکھائی دیتی ہے۔

ٹرمپ کا بیان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جلد امریکہ کو ایک پیشکش دے سکتا ہے، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں اس پیشکش کی تفصیلات معلوم نہیں۔ ایک روز قبل انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا تھا کہ ایران کی قیادت سے متعلق غیر یقینی صورتحال مذاکراتی عمل میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

لبنان میں کشیدگی برقرار

لبنان میں جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کے ایک دن بعد بھی کشیدگی کم نہ ہو سکی۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کسی بھی “خطرے” کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔

دوسری جانب سی این این کی سیٹلائٹ تصاویر کے جائزے میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں سے ہونے والی تباہی کی شدت کو واضح کیا گیا ہے، جو خطے میں جاری کشیدگی کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔

مجموعی طور پر صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ سفارتی رابطے تیز ہو رہے ہیں، لیکن امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات تاحال غیر واضح ہیں، جبکہ خطے میں سیکیورٹی خدشات بدستور برقرار ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں