امریکہ کو اسرائیلی جاسوسی کا خدشہ، پینٹاگون نے خطرے کی درجہ بندی بڑھا دی

فہرستِ مضامین

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اسرائیل کی جانب سے ممکنہ جاسوسی کے خطرے کی درجہ بندی بڑھا کر اپنی سب سے سنگین سطح “کریٹیکل” کر دی ہے۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں نے حالیہ ہفتوں میں امریکی فوجی اہلکاروں، حکومتی عہدیداروں اور خاص طور پر ایران سے متعلق پالیسی سازی میں شامل شخصیات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر Donald Trump کی انتظامیہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی مذاکرات آگے بڑھا رہی ہے، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu ان مذاکرات پر تحفظات رکھتے ہیں اور ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

امریکی حکام کو کن باتوں پر تشویش ہے؟

امریکی نشریاتی ادارے NBC اور اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں کا خیال ہے کہ اسرائیل واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والی بات چیت سے متعلق اندرونی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا کہ اسرائیلی نگرانی کا مرکز امریکی ایلچی اور مذاکرات کار Steve Witkoff، پینٹاگون کے اعلیٰ پالیسی عہدیدار Elbridge Colby اور دیگر اہم حکام تھے جو ایران پالیسی کی تشکیل میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

بعض امریکی حکام کے مطابق اسرائیل کی جانب سے معلومات اکٹھی کرنے کی حالیہ کوششیں اتحادی ممالک کے درمیان معمول کی انٹیلی جنس سرگرمیوں کی حد سے آگے جا چکی ہیں۔

فونز میں نگرانی کے سافٹ ویئر کا دعویٰ

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں تعینات بعض امریکی دفاعی اہلکاروں کو اپنے موبائل فونز میں ایسے سافٹ ویئر کی موجودگی کا شبہ ہوا جو ان کی گفتگو اور رابطوں کی نگرانی کے لیے خفیہ طور پر نصب کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امریکی انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق اسرائیلی جاسوسی کی سرگرمیوں میں اضافہ 2024 کے آخر سے دیکھا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ صدر ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد بھی جاری رہا۔

ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اختلافات

حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ اور وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان اختلافات بھی نمایاں ہوئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے پھیلاؤ پر ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں۔

امریکہ ایک جانب ایران کے ساتھ سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ اسرائیل خطے میں اپنی فوجی حکمت عملی جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے دونوں اتحادیوں کے درمیان پالیسی اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔

اسرائیل کا ردعمل

اسرائیل نے تمام الزامات مسترد کر دیے ہیں۔

واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان نے NBC کو بتایا کہ اسرائیل امریکی سرکاری اداروں یا حکومتی عہدیداروں کی جاسوسی نہیں کرتا اور اس حوالے سے لگائے گئے الزامات “مکمل طور پر غلط” ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بھی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس خبر کی بنیاد ایسے ذرائع پر ہے جنہیں اصل صورتحال کا علم نہیں۔

کیا اسرائیل پہلے بھی امریکہ کی جاسوسی کر چکا ہے؟

امریکہ اور اسرائیل کے قریبی تعلقات کے باوجود ماضی میں بھی جاسوسی کے کئی تنازعات سامنے آ چکے ہیں۔

سب سے مشہور واقعہ 1985 میں سامنے آنے والا “جوناتھن پولارڈ” کیس تھا، جس میں امریکی بحریہ کے انٹیلی جنس تجزیہ کار Jonathan Pollard کو خفیہ معلومات اسرائیل کو فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پولارڈ نے بعد میں جرم قبول کیا اور تقریباً 30 سال قید کاٹی۔

ماہرین کے مطابق اتحادی ممالک کے درمیان بھی خفیہ معلومات اکٹھی کرنا غیر معمولی بات نہیں، تاہم حالیہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران سے متعلق امریکی پالیسی اور مذاکرات اسرائیل کے لیے خاص دلچسپی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

اسرائیل کو تشویش کیوں ہے؟

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ ایسا سفارتی معاہدہ کر سکتا ہے جو مستقبل میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی آزادی کو محدود کر دے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسی وجہ سے اسرائیل امریکی مذاکراتی پوزیشن اور پالیسی مباحث پر گہری نظر رکھنا چاہتا ہے تاکہ کسی بھی ایسے معاہدے کے بارے میں پیشگی معلومات حاصل کی جا سکیں جو اس کے سکیورٹی مفادات کے خلاف ہو۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور امریکہ کی بدلتی ہوئی حکمت عملی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے مفادات میں موجود اختلافات کو پہلے سے زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں