امریکہ کی نئی پابندیاں، ایران کا جوابی پلان کیا ہے؟

فہرستِ مضامین

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں واشنگٹن نے تہران کے خلاف مزید سخت معاشی اقدامات کا عندیہ دیا ہے، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اقتصادی جنگ جاری رہی تو خلیج سے تیل کی برآمدات مکمل طور پر روک دی جائیں گی۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر مالی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ وہ امریکی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے پریس کانفرنس میں مزید پابندیوں اور اقتصادی اقدامات کا اعلان کر سکتے ہیں۔

اسکاٹ بیسنٹ نے فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں موجودہ صورتحال کو ایران کے خلاف ایک انتہائی بڑے معاشی اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ اقتصادی روابط رکھنے والے ممالک کو بھی اس کے ممکنہ نتائج پر غور کرنا چاہیے۔

ایران کو 1979 کے انقلاب کے بعد سے مختلف ادوار میں امریکی پابندیوں کا سامنا رہا ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں واشنگٹن تہران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔

دوسری جانب ایران نے بھی ممکنہ نئی پابندیوں کے جواب میں سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے خبردار کیا کہ اگر اقتصادی جنگ جاری رہی تو ایران خلیج سے تیل کی برآمد مکمل طور پر روک سکتا ہے۔

محسن رضائی کے مطابق ایران نہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل جاری رکھے گا اور نہ ہی خلیج کے کسی دوسرے راستے سے تیل برآمد کرنے دے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو ممالک ایران کے خلاف امریکی اقتصادی اقدامات میں شامل ہوں گے، تہران ان کے اقدامات کو ایرانی عوام کے خلاف جنگ تصور کرے گا۔

یہ دھمکی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں کے لیے پہلے ہی تشویش کا باعث بن چکی ہے۔ یہ اہم سمندری راستہ خلیجی ممالک سے عالمی منڈیوں تک تیل کی ترسیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

حالیہ کشیدگی کے باعث خطے میں سمندری آمدورفت متاثر ہوئی ہے جبکہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اگر ایران واقعی آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روک دیتا ہے تو عالمی توانائی کی سپلائی پر اس کے نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں سے براہِ راست حملے نہ ہونے کے باوجود تنازع کے خاتمے کے لیے کوئی قابلِ ذکر مذاکرات بھی نہیں ہو سکے۔ 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والی لڑائی میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد ایران اور لبنان میں ہلاک ہونے والوں کی ہے۔

ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی ہلاک ہوئے، جبکہ مسلسل کشیدگی نے ایرانی معیشت کو بھی شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

اس کے باوجود ایران کے پاس میزائلوں اور ڈرونز کی قابلِ ذکر صلاحیت موجود ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث خلیجی ممالک اور خطے میں موجود اہم تنصیبات کو مزید حملوں کا خطرہ برقرار ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل بھی اب تک واضح نہیں ہوسکا۔ امریکہ اور اسرائیل تہران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے خواہاں ہیں، جبکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو اپنے قومی مفادات کے مطابق آگے بڑھانے پر اصرار کرتا رہا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ واشنگٹن صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ان ممالک اور اداروں کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے جو پابندیوں کے باوجود تہران کے ساتھ مالی اور تجارتی روابط برقرار رکھتے ہیں۔

امریکہ نے خاص طور پر چین پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی اقدامات میں تعاون کرے، کیونکہ چین اپنی تیل کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ خلیجی خطے سے پورا کرتا ہے۔

تاہم چین نے امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پابندیاں اور معاشی دباؤ مسائل کا حل نہیں۔ بیجنگ کے مطابق موجودہ بحران کا راستہ سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے۔

یوں امریکہ کی جانب سے نئے معاشی اقدامات اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی برآمد روکنے کی دھمکی نے پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے اثرات صرف خطے تک محدود رہنے کے بجائے عالمی تیل کی منڈیوں اور معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں