امریکی قیادت کا ایرانی تجویز پر غور، ٹرمپ جوہری معاملہ فوری حل کے خواہاں

فہرستِ مضامین

وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ اہم اجلاس کیا، جس میں ایران کی جانب سے پیش کردہ ایک نئی تجویز پر غور کیا گیا۔

یہ تجویز ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، اور تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کو جنگ کے بعد تک مؤخر کرنے سے متعلق ہے۔

ٹرمپ کی تشویش: جوہری معاملہ پہلے حل ہو

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ اس تجویز سے مکمل طور پر مطمئن نہیں، کیونکہ اس میں ایران کے جوہری پروگرام پر فوری بات چیت شامل نہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ چاہتے ہیں کہ کسی بھی مذاکرات کے آغاز میں ہی جوہری مسئلہ سرفہرست ہو۔

اسی طرح سی این این کے مطابق اگر ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں ختم کر دی گئیں اور جوہری خدشات برقرار رہے تو اس سے واشنگٹن کی سفارتی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔

جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری نقل و حمل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان واضح کر چکے ہیں کہ جب تک امریکی پابندیاں برقرار ہیں، ایران مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان 8 اپریل کو عارضی جنگ بندی طے پائی تھی، جو ایک ماہ سے زائد جاری لڑائی کے بعد ممکن ہوئی۔ یہ لڑائی امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے شروع ہوئی تھی۔

پاکستان کی ثالثی، مگر تنازع برقرار

یہ جنگ بندی پاکستان کی ثالثی سے ممکن ہوئی، تاہم اب یہ معاہدہ آبنائے ہرمز تک رسائی اور ایرانی بندرگاہوں پر پابندیوں کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی نے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔

ایران کا سفارتی اشارہ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کو سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی اور کہا کہ ایران امریکی درخواست پر مذاکرات بحال کرنے پر غور کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر یقینی صورتحال میں روس کے ساتھ اعلیٰ سطحی روابط اہم ہیں، اور ایران سفارتی دروازے بند نہیں کر رہا بلکہ بات چیت کے لیے تیار ہے۔

آبنائے ہرمز کھولنے کا عالمی مطالبہ

دنیا کے درجنوں ممالک نے آبنائے ہرمز کو فوری اور بغیر رکاوٹ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال عالمی غذائی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں سفارتکاروں نے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا اور نشاندہی کی کہ ہزاروں جہاز اور ہزاروں سمندری کارکن اس تعطل سے متاثر ہو رہے ہیں۔

عالمی منڈیوں پر اثرات

آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، اور اس میں خلل خاص طور پر غریب ممالک کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

بحرین نے اس صورتحال کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے جہازوں پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا، تاہم سلامتی کونسل کوئی مشترکہ اقدام کرنے میں ناکام رہی، کیونکہ چین اور روس نے ایک قرارداد کو روک دیا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کشمکش ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں جنگ بندی برقرار رکھنے، آبنائے ہرمز کو کھولنے اور جوہری تنازع حل کرنے جیسے بڑے چیلنجز بیک وقت سامنے ہیں۔ ایران مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کر رہا ہے، مگر اعتماد کی کمی اور اسٹریٹجک اختلافات کسی بھی فوری پیش رفت میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں