دادو کی عدالت نے حال ہی میں ایک انتہائی حساس قتل کے کیس میں فیصلہ سنایا ہے، جس میں ام رباب چانڈیو کے والد، چچا اور دادا کے قتل کے کیس میں نامزد آٹھ ملزمان بری ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ کب پیش آیا؟
یہ واقعہ 17جنوری 2018 کو دادو ضلع کے میہڑ کے قریب ایک ہی خاندان کے تین افراد قتل ہوئے ، جن میں ام رباب کے دادا، انکےوالداور چچا شامل تھے۔
یہ واقعہ صرف خاندانی قتل نہیں تھا، بلکہ دو بااثر خاندانوں کے درمیان سرداری تنازع اور علاقے میں سیاسی اثر و رسوخ کا نتیجہ بھی سمجھا گیا۔
واقعہ کے بعد مدعی پرویز احمد چانڈیو کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں اہم نام جوشامل تھے ان میں سردار خان چانڈیو، سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے ایم پی اے اور چانڈیو قبیلے کے سربراہ،سردار خان چانڈیو اور انکے بھائی پی پی ایم پی اے برہان خان چانڈیو،سکندر علی چانڈیو، گوہر علی چانڈیو، عبد الستار چانڈیو، ذوالفقار چانڈیو، غلام مرتضیٰ چانڈیو اور عبدالکریم چانڈیو
کيس کی تفتیش اور عدالتی کارروائی:
کيس میں پولیس کی تحقیق، چالان، گواہوں کے بیانات اور وکلاء کے دلائل اہم رہے۔ یہ کیس سندھ کے مختلف اضلاع کی عدالتوں نوشہروفیروز، سکھر، اور میرپور ماتھیلو میں منتقل ہوتا رہا۔
آخرکار میہڑ کی عدالت میں ٹرائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا۔ دادو کے ایڈیشنل سیشن جج حسن علی کلوڑنے اس ہائی پروفائل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا:
عدالتی فیصلے کے مطابق کیس میں شامل تمام ملزمان (پی پی ایم پی اے سردار خان چانڈیو، ان کے بھائی برہان خان چانڈیو اور دیگر) کو کمزور گواہوں کی بنیاد پر شک کے فائدے سے باعزت بری کیا جائے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا:
ملزمان کے خلاف پیش کی گئی تمام قانونی شہادتیں تضادات اور خامیوں سے بھری ہوئی تھیں۔
کیس میں غیر جانبدار شہادتیں ناکافی رہیں، جس کے بعد تمام ملزمان کو شک کے فائدے سے بری کر کے آزاد کرنے کا حکم دیا گیا۔
عدالت نے سوال کیا کہ اگر قاتل خاندان کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتے تھے تو اہم گواہوں کو زندہ کیوں چھوڑا گیا؟ یہ منطقی نہیں۔
فیصلے کے بعد ام رباب چانڈیو نے کہا:
“تین افراد کے قتل میں کسی بھی ملزم کو سزا نہ ملنے پر تعجب ہوا ہے۔”
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس عدالتی فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گی۔
مدعی کے وکیل صلاح الدین پنهور نے کہا کہ تین عینی شاہد موجود تھے، جن کی شہادتیں ریکارڈ کرائی گئیں، اور مقتولین کی میڈیکل رپورٹس بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ تھیں، پھر بھی تمام ملزمان بری ہو گئے۔
قتل کی تفصیلات:
18 جنوری 2018 کی رات ایک بجے، پرویز احمد ولد کرم اللہ خان چانڈیو نے میہڑ کی اے سیکشن تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی۔
مدعی کے مطابق مقتول مختار احمد اس کے بھائی اور کرم اللہ خان چانڈیو اس کا والد تھے، جو یونین کونسل کے چیئرمین تھے۔
ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا کہ چانڈیو قبیلے کے سردار سردار خان چانڈیو نے مختار احمد چانڈیو کو دھمکیاں دی تھیں۔
مختار احمد خود ’تمندار‘ تھا اور اس نے دیگر تمنداروں کے ساتھ ’تمندار کونسل‘ قائم کی تھی۔
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ سردار خان کو خدشہ تھا کہ مختار احمد ان کی سرداری کے خلاف بغاوت کر رہا ہے، اس لیے وہ تمندار کونسل کو ختم کرنے کا خواہاں تھا، ورنہ خاندان کو شدید نقصان پہنچایا جائے گا۔
قتل کے دن:
17 جنوری 2018 کی صبح تقریباً نو بجے دو گاڑیاں (ایک سفید کرولا اور ایک سفید لینڈ کروزر) بیٹھک کے سامنے پہنچیں، جن سے چھ مسلح افراد نکلے۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزمان کی شناخت علی گوہر ولد بختیار علی عرف بختیار چانڈیو، غلام مرتضیٰ ولد محمد صفر چانڈیو، سکندر ولد علی حسن چانڈیو، ذوالفقار ولد غلام قادر عرف قادو چانڈیو، غلام قادر عرف قادو ولد پاریل چانڈیو کے طور پر کی گئی، جبکہ برہان ولد شبیر احمد چانڈیو لینڈ کروزر میں موجود تھا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ برہان نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا اور دیگر ملزمان کو اکسایا کہ ان کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو سبق سکھانے کے لیے قتل کیا جائے۔
جوابداروں کا موقف:
پی پی ایم پی اے برہان خان چانڈیو کا کہنا تھا کہ وہ واقعہ کے وقت ضلع ٹنڈو محمد خان میں موجود تھے، جہاں انہوں نے پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، صوبے کے وزیراعلیٰ اور پارٹی کے صدر نثار احمد کھڑو کا استقبال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ناجائز طور پر سیاسی اور ذاتی جھگڑے میں پھنسانے کی کوشش کی گئی۔
عدالت کی رائے:
غیر جانبدار گواہوں کی کمی کی نشاندہی کی گئی اور استغاثہ کی غیر مصدقہ گواہوں کو نظرانداز کیا گیا۔
سردار خان چانڈیو کو سازش سے جوڑنے کے لیے کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔
کال ڈیٹیلز اور آواز کی ریکارڈنگ بھی موجود نہیں تھی، جو سازش یا رابطے کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہو۔
تمام آٹھ ملزمان شک کے فائدے سے بری اور حراست میں موجود افراد کو فوری آزاد کرنے کا حکم دیا گیا۔
فیصلے کے بعد حالات:
دادو شہر اور عدالت میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے۔ چانڈیو قبیلے کے سربراہ اور ایم پی اے سردار خان چانڈیو اور برہان چانڈیو اپنے محافظوں کے ہمراہ عدالت پہنچے اور فیصلہ سننے کے بعد حامیوں کو مبارکباد دی۔
سردار خان نے میڈیا سے مختصر گفتگو میں کہا:
“پہلے دن سے کہہ رہا تھا کہ سب کچھ جھوٹ پر مبنی ہے، اور آج ہم بری ہو گئے۔”
اہمیت:
یہ کیس نہ صرف خاندانی قتل کا کیس ہے بلکہ سندھ میں طاقتور خاندانوں اور سیاسی اثر و رسوخ کا امتحان بھی سمجھا جاتا ہے۔
یہ کیس ام رباب چانڈیو کی جدوجہد، سندھ کے عدالتی نظام اور سیاسی حساسیت کی عکاسی کرتا ہے اور تاریخ کے سب سے زیادہ زیر بحث قتل کیسز میں سے ایک ہے۔
اگرعدالت کے فیصلے کومن وعن تسلیم کیا جائے کہ کیس میں نامزد تمام ملزمان بیگناہ ہیں تو پھر بھی بہت سے سوالات اب بھی جواب طلب ہیں
سوال حکومت وقت سےتو بنتا ہے کہ آخر ان تین معصوم لوگوں کے ناحق خون کا قاتل کون ہے؟
ان قاتلوں کو پکڑنے کی زمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے؟
کیا حکومت میں بیٹھے کسی طاقتور شخص کو عدالت سے سزا ہوسکتی ہے؟
کیا واقعی قانون سب کے لیے برابر ہے؟
ام رباب کیس نے اس معاشرے میں ایک بار پھر وہی بحث چھیڑ دی ہے کہ قانون کا پلڑا ہمیشہ طاقتوروں کی طرف کیوں جھکا ہوتا ہے؟ پھر چاہے کیس ناظم جوکیوکا ہو، فاطمہ فرڑو کاہو، نصراللہ گڈانی کا یا نتاشہ جیسی طاقتور خاتون اپنی گاڑی سے باپ بیٹی کو کچل دے، قانون کبھی بھی غریب کا محافظ نظر نہیں آیا۔جس بنا پر عدالتی فیصلوں پر شدید تنقید بھی ہوتی ہے اور عام لوگوں کا عدالتی نظام سے اعتماد کم ہوتا دکھائی دیتاہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ریاستی ادارے طاقتور کے بجائے عام لوگوں کو اعتماد میں لیں اور انہیں عین قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے ۔