انقرہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ پہنچ گئے، جہاں ترک صدر رجب طیب اردوان نے ان کا انقرہ ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں دفاعی تعاون، تجارت، غزہ کی صورتحال اور ایران سمیت اہم علاقائی و عالمی معاملات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
صدارتی محل میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ترکیہ امریکہ کا اہم اتحادی ہے اور صدر رجب طیب اردوان ان کے قریبی دوست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے پر بات چیت ہوئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایف-35 لڑاکا طیاروں کے معاملے پر بھی مثبت اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ متعدد حلقوں کا خیال ہے کہ ترکیہ کو دوبارہ ایف-35 پروگرام میں شامل کیا جانا چاہیے، اور واشنگٹن اس حوالے سے ترکیہ کو طیاروں کی فروخت کے امکان پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔
امریکی صدر نے نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے برسوں تک اتحاد پر اربوں ڈالر خرچ کیے تاکہ یورپ کا دفاع یقینی بنایا جا سکے، تاہم ان کے بقول نیٹو کئی معاملات میں توقعات پر پورا نہیں اترا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر نیٹو کا یہ اجلاس ترکیہ میں منعقد نہ ہو رہا ہوتا تو شاید وہ اس میں شرکت نہ کرتے۔
دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ ایف-35 طیاروں کا معاملہ نیا نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے زیرِ بحث ہے۔ ان کے مطابق امریکہ نے ماضی میں ترکیہ کو پانچ ایف-35 طیارے فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، اور انہیں امید ہے کہ موجودہ نیٹو اجلاس کے دوران اس معاملے میں مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ خطے میں امن کے قیام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، جبکہ نیٹو اجلاس میں بھی علاقائی امن و استحکام سے متعلق امور پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
ایران اور امریکہ کے تعلقات سے متعلق سوال کے جواب میں ترک صدر نے کہا کہ ترکیہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے اپنا سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی امن کے فروغ کے لیے تمام دوست ممالک مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں اور ترکیہ بھی اسی مقصد کے لیے سرگرم ہے۔