قومی عوامی تحریک کے رہنما ایاز لطیف پلیجو، این سی سی آئی اے کی طلبی پر سیکڑوں کارکنوں کے ہمراہ این سی سی آئی اے گلستانِ جوہر کے دفتر پہنچے۔
ایاز لطیف پلیجو جیسے ہی این سی سی آئی اے کے دفتر کے لیے روانہ ہوئے تو جوہر موڑ پر قومی عوامی تحریک کے کارکنوں اور مختلف سماجی و سیاسی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے بھرپور استقبال کیا۔
ایاز لطیف پلیجو سیکڑوں افراد پر مشتمل ریلی کے ساتھ این سی سی آئی اے کے دفتر کے سامنے پہنچے، جہاں ریلی جلسے میں تبدیل ہوگئی اور کارکنوں نے شدید نعرے بازی کی۔
این سی سی آئی اے میں پیش ہونے سے قبل ایاز لطیف پلیجو نے تقریباً ایک گھنٹے تک ریلی میں شریک کارکنوں اور دیگر افراد سے خطاب کیا۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ پاکستان بنانے والا صوبہ ہے اور ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ یہ دھرتی ہماری ہے، جو ایک سچ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں سندھ سے محبت کرنے کے جرم میں طلب کیا گیا ہے۔
ریلی سے خطاب کے بعد ایاز لطیف پلیجو اپنی قانونی ٹیم کے ہمراہ این سی سی آئی اے کے دفتر میں پیش ہونے کے لیے داخل ہونے لگے تو سیکڑوں کارکن بھی ان کے ساتھ دفتر کے مرکزی دروازے تک پہنچ گئے، جس کے باعث این سی سی آئی اے کے مرکزی گیٹ پر لوگوں کا بڑا ہجوم جمع ہوگیا۔
اس دوران قومی عوامی تحریک کی جانب سے لاؤڈ اسپیکر پر اعلانات کرکے کارکنوں سے پیچھے ہٹنے کی اپیل کی گئی، جس کے بعد ایاز لطیف پلیجو کو اپنے وکلا کے ہمراہ دفتر کے اندر جانے دیا گیا۔
تقریباً آدھے گھنٹے تک دفتر میں موجود رہنے کے بعد باہر آنے پر ایاز لطیف پلیجو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دفتر میں انہیں چائے اور بسکٹ پیش کیے گئے۔
ان کے مطابق حکام نے ان سے کہا کہ وہ اپنا پتہ فراہم کریں، جس پر انہیں سوالنامہ ارسال کیا جائے گا اور انہیں اس کے جوابات دینا ہوں گے۔
ایاز لطیف پلیجو کی آمد کے موقع پر جوہر چورنگی اور گردونواح میں قومی عوامی تحریک کے کارکنوں کی بڑی تعداد پارٹی کے جھنڈے اٹھائے موجود رہی۔ ریلی میں جئے سندھ کے جھنڈے بھی دکھائی دیے۔
ایاز لطیف پلیجو کی پیشی کے موقع پر وکلا برادری، صحافیوں، شاعروں اور ادیبوں کی بڑی تعداد بھی جوہر موڑ پہنچی۔