تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم نہ کی گئی تو ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے، جس کے عالمی تجارت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری اپنے بیان میں قالیباف نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں اگر دباؤ برقرار رکھا گیا تو اس اہم آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ہر قسم کی بحری آمدورفت ایران کی منظوری اور مقررہ ضوابط کے تحت ہی ممکن ہوگی۔
یاد رہے کہ ایران اس سے قبل جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر کھولنے کا اعلان کر چکا ہے۔ اس فیصلے کے تحت تجارتی جہازوں کو محدود اور مخصوص طریقہ کار کے ذریعے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم فوجی بحری جہازوں کے داخلے پر بدستور پابندی عائد ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق یہ عبوری انتظام جنگ بندی کے تناظر میں کیا گیا ہے، جس کے تحت متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون سے تجارتی سرگرمیوں کو جزوی طور پر بحال رکھا گیا ہے تاکہ عالمی سپلائی چین مکمل طور پر متاثر نہ ہو۔
دوسری جانب امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی جاری ہے، جس کا مقصد ایران کی تیل برآمدات کو محدود کرنا بتایا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ پابندیاں اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک ایران کے ساتھ کوئی جامع اور حتمی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔