ایرانی مذاکرات کار: معاملات آگے بڑھے، لیکن معاہدہ ابھی طے نہیں ہوا

فہرستِ مضامین

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے، تاہم اہم تنازعات اب بھی اپنی جگہ برقرار ہیں۔

ایران کے ایک اعلیٰ سطحی مذاکرات کار نے حالیہ بات چیت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، مگر جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات پر دونوں فریقوں کے درمیان واضح اختلافات موجود ہیں۔ ان کے مطابق چند نکات پر سخت مؤقف اختیار کیا گیا ہے جبکہ دونوں جانب اپنی اپنی سرخ حدیں بھی قائم ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مذاکرات کو مثبت قرار دیا، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ امریکہ کسی دباؤ یا دھمکی کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے گفتگو کی تفصیلات بیان کرنے سے گریز کیا، جس سے صورتحال مزید غیر واضح ہو گئی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق ہفتہ کے روز ہونے والی بات چیت کے حوالے سے نہ تو واشنگٹن اور نہ ہی تہران نے کوئی جامع بیان جاری کیا، جبکہ جنگ بندی کے خاتمے میں چند دن باقی رہ جانے کے باعث خطے میں بے یقینی بڑھ رہی ہے۔

یاد رہے کہ اٹھائیس فروری کو شروع ہونے والی جنگ، جو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد بھڑکی، اب آٹھویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس دوران ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تیل منڈی کو شدید متاثر کیا ہے۔

حالیہ پیش رفت میں ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، حالانکہ چند روز قبل اسے عارضی طور پر کھولنے کی بات کی گئی تھی۔ تہران کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام امریکہ کی جانب سے جاری ناکہ بندی کے ردعمل میں اٹھایا گیا ہے، اور اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی بھی قرار دیا گیا ہے۔

ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے بھی سخت بیانات سامنے آئے ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایرانی بحریہ دشمن کو “نئی اور تلخ شکست” دینے کے لیے تیار ہے۔ اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے دھمکی آمیز رویہ قرار دیا، تاہم انہوں نے مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے کی اہمیت بھی تسلیم کی۔

ادھر واشنگٹن نے اپنی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر بدھ تک کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو جنگ بندی ختم ہو سکتی ہے، جس کے بعد فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔

ایک اور اہم پیش رفت میں ایران نے تصدیق کی ہے کہ وہ امریکہ کی نئی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ ایرانی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے مطابق یہ تجاویز عاصم منیر کی جانب سے پیش کی گئی ہیں، تاہم ان کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔

اس سے قبل اسلام آباد میں دس اور گیارہ اپریل کو ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے، لیکن سفارتی کوششیں تاحال جاری ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ مرحلہ بھی یہیں منعقد ہو سکتا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں