برطانیہ میں جنسی رجحان کی بنیاد پر پناہ کی درخواستیں: پاکستانی شہری سرفہرست، تحقیقات میں فراڈ کے الزامات بھی سامنے آگئے

فہرستِ مضامین

تحریر: فہمیدہ ریاض شہوانی

برطانیہ میں جنسی رجحان (ایل جی بی ٹی) کی بنیاد پر پناہ کی درخواستیں دینے والے افراد میں پاکستانی شہری سرفہرست قرار دیے گئے ہیں، جبکہ اس حوالے سے ایک نئی تحقیق میں مختلف پہلوؤں اور سنگین الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک تحقیق اور ہوم آفس کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2023 میں پاکستان سے اس بنیاد پر پناہ کی 578 درخواستیں دائر کی گئیں، جو کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہیں۔ دوسرے نمبر پر بنگلہ دیش رہا جہاں سے 175 درخواستیں آئیں، جبکہ نائجیریا سے 103 درخواستیں ریکارڈ ہوئیں۔ اس کے بعد بھارت (39) اور یوگنڈا (35) کا نمبر آتا ہے۔

یہ تمام وہ ممالک ہیں جہاں قانونی یا سماجی سطح پر ہم جنس پرستی کو قبولیت کے مختلف مسائل کا سامنا ہے، اور یہی وجہ اکثر پناہ کی درخواستوں میں بیان کی جاتی ہے۔

پاکستان میں ایل جی بی ٹی سرگرمیاں

پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران ایل جی بی ٹی کمیونٹی نے نسبتاً زیادہ کھل کر اپنی موجودگی ظاہر کرنا شروع کی ہے۔ کراچی میں ٹرانس مارچ جیسے پروگراموں میں افراد اپنے جھنڈوں کے ساتھ شرکت کرتے ہیں، جبکہ کچھ تقریبات کو روکنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ کمیونٹی مختلف پلیٹ فارمز اور تنظیموں کے ذریعے متحرک ہے۔

تحقیقات میں اہم انکشافات

تحقیق میں یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ بعض کیسز میں پناہ کے حصول کے لیے جعلی دعوے کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق کچھ مشاورتی افراد اور قانونی فرمیں مبینہ طور پر درخواست گزاروں کو جعلی کہانیاں تیار کرنے، ثبوت بنانے اور خود کو ایل جی بی ٹی ظاہر کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

کچھ افراد کو یہ بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ویزے کی مدت ختم ہونے سے پہلے یہ دعویٰ کریں کہ وطن واپسی پر انہیں اپنی جنسی شناخت کی وجہ سے خطرہ لاحق ہوگا۔

مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض کیسز میں ہزاروں پاؤنڈ فیس کے عوض مکمل “پیکج” فراہم کیا جاتا ہے، جس میں جعلی بیانات، تصاویر اور دیگر مواد شامل ہوتا ہے۔ بعض افراد مبینہ طور پر ایل جی بی ٹی تقریبات میں شرکت کرکے تصاویر بھی بنواتے ہیں تاکہ اپنی درخواست کو مضبوط بنایا جا سکے۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ کچھ معاملات میں ذہنی بیماریوں جیسے ڈپریشن کے جعلی میڈیکل ثبوت یا فرضی تعلقات بھی تیار کیے گئے۔

برطانوی حکومت اور ماہرین کا ردعمل

برطانوی حکام نے واضح کیا ہے کہ پناہ کے نظام کے غلط استعمال پر سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں گرفتاری اور ملک بدری بھی شامل ہو سکتی ہے۔ ساتھ ہی پالیسی میں مزید سختی اور جانچ کے عمل کو مضبوط بنانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسے جعلی دعوے نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ ان افراد کے لیے بھی نقصان دہ ہیں جو واقعی خطرے میں ہیں اور تحفظ کے مستحق ہیں۔

انسانی حقوق کا مؤقف

دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ کئی ایل جی بی ٹی افراد واقعی اپنے ممالک میں سنگین خطرات کا سامنا کرتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ فراڈ روکنے کے ساتھ ساتھ حقیقی متاثرہ افراد کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے۔

ماہرین کے مطابق یہ معاملہ برطانیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے کہ وہ ایک طرف نظام کے غلط استعمال کو روکے اور دوسری طرف حقیقی ضرورت مندوں کو تحفظ فراہم کرے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں