ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی پر سخت تنقید کی اور سندھ میں امن و امان، سیاست اور انتخابات سے متعلق اہم نکات پر گفتگو کی۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی گزشتہ اٹھارہ سالہ حکومت کے دوران کئی افسوسناک واقعات پیش آئے، جن میں فہمیدہ لغاری واقعہ، ٹنڈو مستی کیس اور امہ رباب چانڈیو کے خاندان کا قتل شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات سے بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو جیسے رہنماؤں کی روح بھی تڑپ اٹھی ہوگی۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ اگر جی ڈی اے یا فنکشنل لیگ سندھ کی بہتری کے لیے کوئی مثبت قدم اٹھاتی ہے تو ایم کیو ایم پاکستان ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ فنکشنل لیگ کی اچانک سرگرمی اور ممکنہ مشترکہ حکومت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ جس طرح ایم کیو ایم کو اپنی تنظیمی کمزوریاں دور کرنا ہوں گی، اسی طرح فنکشنل لیگ کو بھی اپنی خامیاں ختم کرنا ہوں گی، تب ہی کسی مؤثر اتحاد کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
انہوں نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصہ اقتدار میں رہنے کے باوجود پارٹی کراچی کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ کے فور منصوبہ بھی وفاقی حکومت کا ہے جس میں سندھ حکومت کا کوئی مالی حصہ نہیں۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے واضح کیا کہ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم پاکستان نے تِک بندیوں میں کمی کے باعث بائیکاٹ کیا تھا، تاہم بعد ازاں ان کے مطالبے پر 50 نشستیں بڑھائی گئیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ انتخابات کے لیے حلقہ بندیاں الیکشن کمیشن آف پاکستان خود کرے، کیونکہ یہ اس کی آئینی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے اپنی جماعت کا نعرہ “پیپلز پارٹی بھگاؤ، کراچی بچاؤ” دہراتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی مصنوعی اکثریت کے ذریعے سندھ پر حکمرانی کر رہی ہے۔
معاشی معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے۔
خارجہ اور قومی امور پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر نے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں بھی پاکستان کا پرچم لہراتا نظر آ رہا ہے، جبکہ گزشتہ سال “معرکہ حق” میں بھارت کو شکست دے کر پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مستحکم کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان “معرکہ حق” سے آگے بڑھ کر “معرکہ عالمی امن” کی طرف گامزن ہے اور عالمی امن کے قیام میں اس کے کردار کو سراہا جا رہا ہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے گلگت بلتستان اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ہزاروں طلبہ کی پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی سیاسی عمل میں شرکت ملک کے روشن مستقبل کی علامت ہے۔