اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے درمیان پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ عاصم منیر تہران کا اہم دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ہو گئے ہیں، جبکہ شہباز شریف ترکیہ کا دورہ ختم کر کے وطن لوٹ رہے ہیں۔
پاکستانی فوج کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں تین روزہ قیام کے دوران ایرانی قیادت اور امن مذاکرات سے وابستہ شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور امریکہ-ایران کشیدگی کے حل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ دورہ پاکستان کے اس عزم کا مظہر ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل، اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں آئندہ چند روز میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اور دورِ مذاکرات متوقع ہے۔
تہران میں قیام کے دوران عاصم منیر نے ایران کے صدر، وزیر خارجہ عباس عراقچی، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور فوجی قیادت سے بھی اہم ملاقاتیں کیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ایران کے اعلیٰ سطحی وفد نے اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کی تھی، جو کئی دہائیوں بعد دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطہ تھا، تاہم یہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔ موجودہ جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے والی ہے، جس کے باعث سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے دورے کے ذریعے امن عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ ان کا تین ملکی دورہ ہفتے کے روز انطالیہ میں ایک سفارتی فورم میں شرکت کے بعد اختتام پذیر ہوا، جہاں ان کے ہمراہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔
شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ انطالیہ سے خوشگوار یادوں اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کے ساتھ واپس لوٹ رہے ہیں، اور خطے میں پائیدار امن کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کو جاری رکھا جائے گا۔
ادھر عالمی سطح پر بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں جلد منعقد ہو سکتا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے پاکستانی قیادت، خصوصاً عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندیاں عائد کیے جانے اور امریکہ پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات کے بعد صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے، تاہم پاکستان کی متحرک سفارت کاری کے باعث ایک ممکنہ پیش رفت کی امید بھی بڑھ رہی ہے۔
اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کے پیش نظر خطے اور عالمی برادری کی نظریں اب پاکستان پر مرکوز ہیں، جہاں اختلافات کے باوجود کسی بڑی پیش رفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔