کراچی: وزیر جامعات و بورڈز سندھ محمد اسماعیل راہو نے کورنگی کراسنگ میں قائم امتحانی مراکز کا اچانک دورہ کیا، جہاں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آنے پر فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔
صوبائی وزیر نے گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول ہاجرہ آباد اور دی اسکالر اسکول کے امتحانی مراکز کا سرپرائز وزٹ کیا۔ دورے کے دوران انکشاف ہوا کہ ہاجرہ آباد مرکز میں منظم طریقے سے طلبہ کو نقل کروائی جا رہی تھی، جس پر وزیر نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور صورتحال کو انتہائی خراب قرار دیا۔
کارروائی کے دوران نقل کروانے میں ملوث 6 سے زائد غیر متعلقہ افراد کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا، جبکہ مزید افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔ وزیر نے خود طلبہ سے نقل کا مواد اور 10 سے زائد موبائل فون برآمد کیے، جو امتحانی ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
محمد اسماعیل راہو نے فوری طور پر ہاجرہ آباد امتحانی مرکز کے عملے کو تبدیل کرنے کے احکامات جاری کیے اور سینٹر سپرنٹنڈنٹ کی برطرفی کے لیے محکمہ تعلیم کو درخواست دینے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے سپرنٹنڈنٹ کی کارکردگی پر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔
ترجمان کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں کچھ پولیس اہلکاروں کے بھی نقل میں ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں، جس پر ان کے خلاف کارروائی کے لیے ایس ایس پی کورنگی کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب وزیر نے دی اسکالر اسکول کے امتحانی مرکز کو بھی منسوخ کرنے کے احکامات جاری کر دیے، جہاں گنجائش سے کہیں زیادہ طالبات امتحان دے رہی تھیں۔
صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ امتحانی نظام میں شفافیت ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور نقل جیسے رجحانات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔