آبنائے ہرمز پر پابندیاں دوبارہ عائد، ایران کا امریکہ پر اعتماد توڑنے کا الزام

فہرستِ مضامین

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے لگی ہے، جہاں ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر پابندیاں دوبارہ نافذ کی جا رہی ہیں۔ ایرانی فوج کے مطابق یہ اقدام امریکہ کی جانب سے “بار بار اعتماد کی خلاف ورزیوں” کے باعث اٹھایا گیا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے ایک آئل ٹینکر نے دعویٰ کیا ہے کہ سفر کے دوران اس پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی گن بوٹس کی جانب سے فائرنگ کی گئی، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔

امریکہ-ایران مذاکرات کا نیا دور متوقع
دوسری جانب سفارتی سطح پر پیش رفت کی امید بھی برقرار ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے وفود پیر کے روز جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نئے دور کے مذاکرات میں شرکت کر سکتے ہیں، تاہم امریکہ نے تاحال ان مذاکرات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع نہیں کی جائے گی، جس سے خطے میں مزید کشیدگی کا خدشہ ہے۔

لبنان جنگ بندی پر بھی غیر یقینی صورتحال
ادھر لبنان میں جنگ بندی کے باوجود حالات مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکے۔ اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق غزہ کی طرز پر ایک “یلو لائن” نافذ کی جائے گی، جس کے تحت شہریوں کو 55 زیر قبضہ دیہات میں واپس جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد کچھ شہری اپنے گھروں کو لوٹنے لگے تھے، تاہم نئی پابندیوں کے باعث ان کی واپسی ایک بار پھر غیر یقینی ہو گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیک وقت کئی محاذوں پر بڑھتی کشیدگی خطے میں امن کی کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں