امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی اس تصور کے گرد گھومتی ہے کہ امریکہ اتنی طاقت رکھتا ہے کہ دوست اور دشمن دونوں واشنگٹن کی مرضی تسلیم کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ تاہم ایران کے ساتھ جاری جنگ اور کینیڈا کے ساتھ بڑھتی تجارتی کشیدگی نے اس نظریے کو ایک بڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے قریبی معاون اسٹیفن ملر نے جنوری میں امریکی طاقت کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا طاقت، قوت اور اثر و رسوخ کے اصولوں کے تحت چلتی ہے۔ لیکن اب ایران اور کینیڈا کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازعات یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا صرف طاقت کے ذریعے امریکہ اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرسکتا ہے؟
ایران نے گزشتہ چھ ماہ سے امریکی فوجی طاقت کے باوجود مزاحمت جاری رکھی ہوئی ہے۔ ٹرمپ نے جنگ شروع کی، تاہم اب تک اسے اپنے مطلوبہ انجام تک پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
دوسری جانب کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے واشنگٹن کے ساتھ تجارتی مذاکرات روک دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے دور میں امریکہ تبدیل ہوچکا ہے اور واشنگٹن اقتصادی انضمام کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔
صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ کے قریبی اتحادی کینیڈا اور اس کے بڑے مخالف ایران، دونوں ہی اس وقت واشنگٹن کے ساتھ شدید اقتصادی کشیدگی کا سامنا کررہے ہیں۔
ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کا امریکی منصوبہ
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے عالمی مالیاتی روابط کو نشانہ بنانے کے لیے ایک بڑے ’’اقتصادی حملے‘‘ کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اس کارروائی کا موازنہ دوسری عالمی جنگ میں ڈی ڈے آپریشن سے کیا۔
امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ اگر ایران کے مالیاتی اور تجارتی راستے عالمی سطح پر محدود کردیے جائیں تو پہلے سے شدید مشکلات کا شکار ایرانی معیشت کو مزید نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق پابندیاں اسی وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں جب دنیا کے بیشتر ممالک امریکہ کے ساتھ کھڑے ہوں۔ اگر بڑے ممالک تعاون نہ کریں تو ایران پر اقتصادی دباؤ کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
چین بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ بیجنگ پہلے ہی واضح کرچکا ہے کہ وہ اپنے مفادات کا دفاع کرے گا۔ چین کی جانب سے ایران سے سستا تیل خریدنے والے اداروں کے خلاف امریکی کارروائی پر ممکنہ ردعمل واشنگٹن کے لیے ایک نیا مسئلہ پیدا کرسکتا ہے۔
چین کے پاس اس سے قبل بھی امریکی دباؤ کا جواب دینے کی صلاحیت کا مظاہرہ موجود ہے، خصوصاً اہم نایاب معدنیات کی برآمدات محدود کرنے کے معاملے میں، جو امریکی دفاعی اور ٹیکنالوجی کی صنعت کے لیے اہم ہیں۔
کینیڈا کے ساتھ تنازع صرف تجارت تک محدود نہیں
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان کشیدگی بھی محض تجارتی اختلاف نہیں رہی۔ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کے بیانات نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں سیاسی اور عوامی سطح پر بھی تلخی پیدا کردی ہے۔
کینیڈین حکام کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن کی پالیسی ان کے ملک کی خودمختاری کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔
وزیراعظم مارک کارنی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ کینیڈا کسی بھی ملک کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
اگر امریکہ اور کینیڈا کے درمیان طویل تجارتی جنگ جاری رہتی ہے تو اس کے اثرات دونوں ممالک کی معیشتوں، خصوصاً آٹو انڈسٹری پر نمایاں ہوسکتے ہیں۔ طویل عرصے تک جاری رہنے والی ٹیرف جنگ دونوں جانب معاشی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
کینیڈا میں امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کے بڑھتے رجحان کے سیاسی اثرات بھی سامنے آسکتے ہیں، خصوصاً ان امریکی ریاستوں میں جہاں آئندہ انتخابات میں معمولی فرق بھی سینیٹ کا کنٹرول تبدیل کرسکتا ہے۔
کیا ٹرمپ اپنے مؤقف پر قائم رہیں گے؟
ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا صدر اپنی موجودہ سخت پالیسی پر مستقل مزاجی سے قائم رہیں گے یا معاشی دباؤ بڑھنے کے بعد مؤقف میں نرمی اختیار کریں گے۔
ایران کے خلاف طویل اقتصادی جنگ، کینیڈا کے ساتھ تجارتی محاذ آرائی اور چین سمیت دیگر ممالک کے ممکنہ ردعمل سے امریکہ میں توانائی اور خوراک کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ امریکی مالیاتی منڈیوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اگر ٹرمپ کی سخت دھمکیوں کے بعد دوبارہ پسپائی اختیار کرنے کا تاثر پیدا ہوا تو اس سے نہ صرف صدر کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے بلکہ امریکی طاقت کے بارے میں ان کے اپنے نظریے کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال نے طاقت کے حوالے سے ایک اہم حقیقت بھی سامنے لائی ہے: جب کسی قوم کو اپنی خودمختاری اور آزادی کسی بڑی طاقت سے خطرے میں محسوس ہو تو وہ اپنے دفاع کے لیے غیر معمولی معاشی اور سیاسی قیمت ادا کرنے پر بھی آمادہ ہوسکتی ہے۔
ایران اور کینیڈا کے ساتھ جاری کشیدگی اب اسی حقیقت کا عملی امتحان بن چکی ہے۔