ایران جنگ: امریکی اور اسرائیلی حملوں کے 36ویں دن کیا ہو رہا ہے؟

فہرستِ مضامین

مرتب : اشفاق احمد

ایران نے دو امریکی جنگی طیارے مار گرانے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایک ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل طیارہ صوبہ کوہگیلویہ و بویر احمد کے اوپر گرنے کے بعد دو امریکی عملے کے ارکان کو بچا لیا گیا جبکہ ایک اہلکار لاپتہ ہے۔ اسی طرح ایک اے-10 وار تھاگ طیارہ خلیج میں گر کر تباہ ہو گیا۔

ایران میں حکام کے مطابق اس کامیابی پر تہران میں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور اسے ایک بڑی فوجی کامیابی قرار دیا گیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ طیاروں کو مار گرانا اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران اب بھی امریکی اور اسرائیلی افواج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، باوجود اس کے کہ ٹرمپ انتظامیہ یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ ایران کا فوجی ڈھانچہ شدید نقصان کا شکار ہو چکا ہے۔

یہ واقعات تنازع میں نمایاں شدت کی علامت ہیں، جبکہ لاپتہ امریکی اہلکار کی تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

یہ ہیں تازہ صورتحال کی اہم تفصیلات

ایران میں کیا ہور ہا ہے؟

شدت میں اضافہ: ایران کی جانب سے دو امریکی طیارے مار گرائے جانے کے بعد امریکی افواج لاپتہ عملے کے رکن کی تلاش اور ریسکیو آپریشن کر رہی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق تلاش میں شامل ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر پر بھی ایرانی فائرنگ ہوئی تاہم وہ فضا میں برقرار رہا۔

دفاعی نظام: ایران کا کہنا ہے کہ ایک “نیا جدید دفاعی نظام” طیاروں کو گرانے میں استعمال ہوا، جو امریکی دعوؤں کے برعکس ہے کہ ایران کا فضائی دفاعی نظام تباہ ہو چکا ہے۔

جانی نقصان: ایرانی حکام کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد اب تک کم از کم 2,076 افراد ہلاک اور 26,500 زخمی ہو چکے ہیں۔

سفارتی صورتحال کس نتیجے کو پہنچی؟

سفارت کاری میں تعطل: ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی فارس کے مطابق تہران نے امریکا کی 48 گھنٹے کی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، تاہم امریکا نے اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

لفظی جنگ: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے منافقت قرار دیا اور عالمی برادری سے کہا کہ وہ فیصلہ کرے کہ کون مذاکرات چاہتا ہے اور کون دہشت گردی میں ملوث ہے۔

عالمی اپیل: پزشکیان نے فن لینڈ کے صدر سے مشاورت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کا ایران کو “پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنے” کا بیان ایک بڑے جنگی جرم کی نیت ظاہر کرتا ہے۔

خلیج میں حالات کیسے ہیں؟

یو اے ای میں ہلاکت: ابوظہبی میں ایک گیس تنصیب پر آگ لگنے سے ایک مصری شہری جاں بحق اور چار زخمی ہو گئے، جس کی وجہ ایک روکے گئے حملے کے ملبے کا گرنا بتایا گیا۔

کویت میں حملے: حکام کے مطابق ایرانی حملوں میں آئل ریفائنری اور ڈی سیلینیشن پلانٹ متاثر ہوئے، تاہم ایران نے پانی کی تنصیب کو نشانہ بنانے کی تردید کی۔

بحرین میں ڈرون واقعہ: سیترا کے علاقے میں ایک ایرانی ڈرون کے ملبے سے چار افراد زخمی اور کئی گھر تباہ ہوئے۔

امریکا میں کس بات  کی پریشانی ہے؟

ٹرمپ کو بریفنگ: وائٹ ہاؤس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران میں گرائے گئے امریکی طیارے کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے، جبکہ ایک لاپتہ اہلکار کی تلاش جاری ہے۔

پروپیگنڈا اثرات: تجزیہ کار فیلس بینس کے مطابق یہ واقعہ امریکی عوامی حمایت پر اثر ڈال سکتا ہے، خاص طور پر ٹرمپ کے حامیوں میں۔

دفاعی بجٹ: ٹرمپ نے 2027 کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کی منظوری طلب کی ہے۔

اسرائیل میں کس بات کا خوف ہے؟

حملے: ایران نے جنوبی اسرائیل پر میزائل حملے کیے، جس سے نیگیو کے ایک صنعتی علاقے میں آگ لگ گئی۔

معاشی اثرات: ایران، غزہ اور لبنان میں جاری تنازعات کے باعث اسرائیل کو تقریباً 112 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

عوامی رائے: مشکلات کے باوجود 78 فیصد یہودی اسرائیلی ایران کے خلاف جنگ کی حمایت کرتے ہیں۔

لبنان اور شام میں تباہی

شام میں ہلاکت: قنیطرہ میں اسرائیلی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

لبنان محاذ: اسرائیل نے بقاع وادی میں دو اہم پل تباہ کر دیے جبکہ حزب اللہ نے اسرائیلی افواج پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔

تیل، توانائی اور خوراک کی صورتحال؟

آسٹریلیا میں ایندھن کی قلت: حکومت نے شہریوں کو ایسٹر تعطیلات سے قبل پیٹرول بھرنے کی ہدایت کی ہے۔

خوراک کی قیمتیں: اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق مارچ میں عالمی غذائی قیمتوں میں 2.4 فیصد اضافہ ہوا۔

پاکستان میں مفت بس سروس: پاکستان کے دارالحکومت اور سب سے بڑے صوبے میں ایک ماہ کے لیے سرکاری ٹرانسپورٹ مفت فراہم کی جائے گی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں