ایران کے دارالحکومت تہران پر دو ماہ قبل امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ملک کی صورتحال نمایاں طور پر بدل چکی ہے۔ 9 کروڑ سے زائد ایرانی شہری اس جنگ کے اثرات بھگت رہے ہیں، جہاں روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں اور اشیائے ضروریہ کی قلت بڑھتی جا رہی ہے۔
تاہم ان تمام مشکلات کے باوجود ریاستی طاقت کے مراکز نہ صرف قائم ہیں بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ سخت گیر حلقوں کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے۔
قیادت میں تبدیلی، نظام برقرار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران میں “رجیم چینج” ہو چکا ہے، کیونکہ اعلیٰ قیادت کے کئی اہم افراد، بشمول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، ہلاک ہو چکے ہیں۔
تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ کا نظام بدستور قائم ہے۔ علما کی ایک کونسل نے جلد ہی ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا، جبکہ فوجی، عدالتی اور سیاسی اداروں نے نئی قیادت سے وفاداری کا اعادہ کیا ہے۔
پاسداران انقلاب کا بڑھتا کردار
اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) بدستور ایران کی طاقت کا مرکزی ستون ہے۔ یہ نہ صرف عسکری کارروائیوں کی قیادت کر رہا ہے بلکہ معیشت، قدرتی وسائل اور سڑکوں پر کنٹرول میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، خاص طور پر بسیج جیسے نیم فوجی گروہوں کے ذریعے۔
سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نئے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر کو بھی سخت گیر حلقوں کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے، جو امریکہ کے سامنے کسی بڑی رعایت دینے کے حق میں نہیں۔
سیاست میں سخت گیر بیانیہ غالب
نسبتاً معتدل صدر مسعود پزشکیان کا کردار محدود ہو کر رہ گیا ہے، جبکہ اصلاح پسند رہنما جیسے حسن روحانی، محمد خاتمی اور محمد جواد ظریف سخت تنقید کی زد میں ہیں۔
پارلیمنٹ اور عدلیہ، جو پہلے ہی سخت گیر عناصر کے زیر اثر ہیں، جنگ کے دوران بھی غیر متأثر رہیں، جبکہ سرکاری میڈیا مکمل طور پر ریاستی بیانیے کو فروغ دے رہا ہے—یہاں تک کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز کے ذریعے بھی۔
مذاکرات یا مزاحمت؟
ایرانی قیادت امریکی مطالبات کو “ہتھیار ڈالنے” کے مترادف قرار دیتی ہے۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اگرچہ جنگی کامیابیوں کو معاہدے میں بدلنے کے خواہاں ہیں، لیکن وہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ ایران سرنڈر نہیں کرے گا۔
ایران نے امریکہ کو تجویز دی ہے کہ جوہری پروگرام پر بات چیت مؤخر کی جائے، حالانکہ یہی جنگ کا بنیادی جواز بتایا گیا تھا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، مگر یورینیم افزودگی بند نہیں کرے گا۔
آبنائے ہرمز: نیا تنازع
اب توجہ آبنائے ہرمز پر مرکوز ہے، جسے ایران اور عمان مشترکہ طور پر کنٹرول کرتے ہیں۔ ایران چاہتا ہے کہ گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کی جائے تاکہ جنگ سے ہونے والے تقریباً 270 ارب ڈالر کے نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔
اندرونی بحران شدت اختیار کر گیا
ملک کے اندر معاشی بحران سنگین ہو چکا ہے۔ افراطِ زر دنیا میں بلند ترین سطحوں میں شامل ہے، جبکہ انٹرنیٹ کی طویل بندش نے لاکھوں افراد کو بے روزگار کر دیا ہے۔
حکومت نے خوراک اور ادویات کی فراہمی کو ترجیح دیتے ہوئے سستی کرنسی کے ذریعے درآمدات دوبارہ شروع کر دی ہیں، لیکن عام شہری کی زندگی مزید مشکل ہونے کا خدشہ ہے۔
سخت سیکیورٹی اور خوف کا ماحول
ملک بھر میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، سزائیں اور سرکاری میڈیا پر “اعترافی بیانات” نشر کیے جا رہے ہیں۔ جاسوسی یا حتیٰ کہ میزائل حملوں کی ویڈیو بنانے جیسے الزامات پر بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔
ارالحکومت تہران کی سڑکوں پر بھاری اسلحہ، بکتر بند گاڑیاں، چیک پوسٹس اور مسلح گشت معمول بن چکے ہیں، جو ایک مسلسل جنگی فضا کی عکاسی کرتے ہیں۔
ایران اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف عوام معاشی اور سماجی دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ دوسری طرف ریاستی ڈھانچہ اور سخت گیر قوتیں پہلے سے زیادہ منظم اور مضبوط دکھائی دیتی ہیں۔ جنگ کا انجام ابھی غیر واضح ہے، مگر اب تک کے حالات یہ اشارہ دیتے ہیں کہ نظام میں بڑی تبدیلی کے بجائے اس کی گرفت مزید سخت ہوئی ہے۔