ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اپنے 100ویں دن میں داخل ہو چکی ہے جس نے عالمی مالیاتی اور توانائی منڈیوں کو بری طرح متاثر کر دیا ہے اور دنیا بھر کے رہنماؤں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
اتوار کے روز اس جنگ کو 100 دن مکمل ہو گئے، جس کے بعد عالمی سطح پر توانائی کا بحران مزید گہرا ہو گیا ہے اور عالمی معیشت کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔
ایران اس جنگ کو “بلا اشتعال جارحیت” قرار دیتا ہے، جبکہ یہ تنازع اب خلیجی ممالک اور لبنان تک پھیل چکا ہے۔ 8 اپریل سے ایک کمزور جنگ بندی موجود ہے، تاہم اس کے باوجود اسرائیل لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے نتیجے میں 3 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
امریکہ کے یورپی اتحادیوں نے اگرچہ براہ راست مذمت سے گریز کیا ہے، لیکن جنگ میں شمولیت سے انکار کرتے ہوئے “رجیم چینج” کی مخالفت کی ہے۔ خلیجی ممالک نے اپنی سرزمین پر ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے، جبکہ روس اور چین نے بھی اس جنگ کی مخالفت کی ہے۔
تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے باعث دنیا بھر کے ممالک نے سفارتی حل کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پاکستان اس تنازع میں اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔
بدھ کے روز اسرائیل اور لبنان نے 16 اپریل کی جنگ بندی کی تجدید کی، تاہم اس کے باوجود اسرائیل کی کارروائیاں جاری ہیں جنہیں ایران نے 8 اپریل کی جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
سفارتی کوششیں جاری ہیں لیکن جنگ کے اثرات دنیا بھر میں مختلف سطحوں پر نمایاں ہیں، جبکہ کئی ممالک کی پالیسیوں میں بھی تبدیلی آ رہی ہے۔
عمان، جو امریکہ-ایران جوہری مذاکرات کا اہم ثالث ہے، نے جنگ کے آغاز پر اسے عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا اور بعد میں خود بھی خطے میں حملوں کی زد میں آ گیا، جہاں اس کی بندرگاہوں اور توانائی تنصیبات پر ڈرون حملے ہوئے جن میں جانی نقصان بھی رپورٹ ہوا۔ قطر نے اپنی سرزمین پر ایرانی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے ایرانی اہلکاروں کو ملک بدر کیا، جبکہ توانائی تنصیبات پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ متحدہ عرب امارات نے ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی اور دفاعی طور پر کئی حملے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ بعد میں مبینہ طور پر جوابی کارروائیوں میں بھی حصہ لیا۔ بحرین نے ایرانی حملوں کو “غدارانہ” قرار دے کر اقوام متحدہ میں سخت قراردادوں کی کوشش کی، مگر اسے چین اور روس کی ویٹو کا سامنا کرنا پڑا۔ کویت نے بھی ایرانی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مزید کشیدگی خطے کو غیر مستحکم کر دے گی۔ سعودی عرب نے ایران کے اقدامات کی سخت مذمت کی اور سنگین نتائج کی وارننگ دی، جبکہ بیک وقت ایران کے ساتھ سفارتی رابطے بھی جاری رکھے۔ عراق ایک پیچیدہ صورتحال میں ہے جہاں امریکی اور ایران نواز گروہوں کے درمیان کشیدگی جاری ہے اور تیل کی برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں، جبکہ ترکیہ نے تمام فریقوں سے تحمل اور مذاکرات کی اپیل کی ہے۔ اردن میں امریکی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ مصر نے فوری سفارتی حل کا مطالبہ کیا ہے۔
افریقی یونین نے جنگ کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے اثرات خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں عالمی اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ ایشیا میں بھارت نے تحمل کی اپیل کی اور پاکستان نے فعال ثالثی کردار ادا کیا ہے۔ چین اور روس نے بھی جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے مذاکرات پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ جنگ “کنٹرول سے باہر” ہوتی جا رہی ہے اور یہ عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
ماہرین کے مطابق ابتدا میں ممالک نے محتاط ردعمل دیا، مگر جنگ کے طویل ہونے، توانائی بحران، آبنائے ہرمز کی بندش اور عالمی معاشی دباؤ کے باعث اب عالمی پالیسیوں میں واضح تبدیلی آ رہی ہے اور حکومتیں اپنے عوامی دباؤ کے تحت اس تنازع کے خاتمے کا مطالبہ مزید شدت سے کر رہی ہیں۔