ایران نے میرے ایک بیٹے کو قتل کرنے کی کوشش کی: نیتن یاہو کا دعویٰ

فہرستِ مضامین

تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ان کے ایک بیٹے کو قتل کرنے کی کوشش کی، تاہم انہوں نے مبینہ حملے سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

عرب میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے ایک اسرائیلی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے ان کے ایک بیٹے کو نشانہ بنایا اور اسے قتل کرنے کی کوشش کی۔

اسرائیلی وزیراعظم نے حملے کی تاریخ، مقام یا نشانہ بننے والے بیٹے کا نام بتانے سے گریز کیا۔

خاندان کی سکیورٹی ضروری ہے، نیتن یاہو

نیتن یاہو نے یہ بیان سابق اسرائیلی آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کے اس مؤقف کے ردعمل میں دیا، جس میں نیتن خاندان کو 24 گھنٹے سکیورٹی فراہم کرنے کی بات کی گئی تھی۔

اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان کو مکمل سکیورٹی فراہم کرنا کوئی عیش و عشرت نہیں بلکہ ضرورت ہے، بصورت دیگر ایرانی ان کے خاندان کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ نیتن یاہو کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ اسرائیلی حکام نے جولائی میں وزیراعظم کے دونوں بیٹوں اور اہلیہ کے لیے اضافی ذاتی سکیورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ایران اور اسرائیل میں کشیدگی کے دوران نیا دعویٰ

نیتن یاہو کا یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور اسرائیل میں اکتوبر میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی اتحادی حکومت عوامی جائزوں میں مشکلات کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔

دوسری جانب ایران اپنے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے افراد کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کرچکا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے تہران پر مشترکہ حملے میں علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

علی خامنہ ای کی ہلاکت کے تقریباً ایک ہفتے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا۔ وہ تقرری کے بعد سے منظر عام پر نہیں آئے، تاہم اپنے والد کی تدفین کے موقع پر جاری پیغام میں انہوں نے ان کے خون کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

نیتن یاہو کے تازہ دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ اسرائیلی حکام نے بھی مبینہ حملے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں