مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ امریکا کی جانب سے ایران پر مسلسل تیسرے بڑے فضائی حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ امریکی حملے گزشتہ ماہ ہونے والے مفاہمتی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں، اس لیے اب سخت جواب دینا ناگزیر ہو گیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق گزشتہ ہفتے ایران کے جنوبی علاقوں میں میزائل، ڈرون، ریڈار اور ساحلی دفاعی نظام سمیت متعدد فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے گئے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی سمندری راستوں پر حملے کی صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔
دوسری جانب ایران نے اعلان کیا کہ اس نے بحرین، قطر، کویت، عمان اور اردن میں موجود امریکی فوجی مراکز کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ کارروائیاں امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔
ایران نے دعویٰ کیا کہ عمان کی بندرگاہ دقم میں امریکی بحریہ کے لاجسٹک مراکز، قطر کے العدید ایئربیس، کویت میں پیٹریاٹ دفاعی نظام، بحرین میں امریکی مواصلاتی مراکز اور اردن کے پرنس حسن ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا۔
قطر کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ ایرانی میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روک لیا گیا، تاہم گرنے والے ملبے سے ایک بچے سمیت تین افراد زخمی ہوئے۔ کویت اور بحرین نے بھی اپنے فضائی دفاعی نظام فعال کرنے اور ہائی الرٹ نافذ کرنے کا اعلان کیا، جبکہ عمان نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے۔
ادھر ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک امریکا خطے میں اپنی فوجی مداخلت ختم نہیں کرتا، اس اہم آبی گزرگاہ کو نہیں کھولا جائے گا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ صرف اس کی منظور شدہ بحری گزرگاہوں سے ہی جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہوگی۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی توانائی کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ راستہ طویل عرصے تک بند رہا تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں سمیت تجارت پر بھی بڑے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ “یکطرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا ہے، وعدہ پورا کرو یا اس کی قیمت ادا کرو۔”
دوسری جانب امریکا نے اپنی کارروائیوں کو دفاعی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں اور امریکی مفادات کو لاحق خطرات کے باعث یہ حملے کیے گئے۔
تازہ صورتحال کے بعد پورا خلیجی خطہ ہائی الرٹ پر ہے، جبکہ عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو مشرقِ وسطیٰ ایک وسیع جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔