ایران کی سخت گیر قیادت نے امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران اپنی فوجی حکمت عملی کو مزید جارحانہ بنانے کے اشارے دے دیے ہیں۔ ایرانی حکام کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اب صرف دفاع تک محدود رہنے کے بجائے ضرورت پڑنے پر دشمن کے خلاف براہِ راست کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران نے اپنی فوجی اور سکیورٹی قیادت میں بھی اہم تبدیلیاں کی ہیں، جنہیں مبصرین سخت گیر پالیسی کے استحکام سے جوڑ رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت مؤثر نہیں رہی اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا تنازع برقرار ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ کے معاملے پر وہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔
ایران کی جنگی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی
ایرانی حکام کے مطابق نئی حکمت عملی میں دفاع کے ساتھ ’’جارحانہ کارروائیوں‘‘ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ پاسداران انقلاب کے سیاسی شعبے کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل یداللہ جوانی نے کہا ہے کہ ایران کی کارروائیاں اب تک دفاعی رہی ہیں، تاہم مستقبل میں ان میں جارحانہ پہلو بھی شامل ہوسکتا ہے۔
ایرانی قیادت کی حالیہ تقرریاں بھی اسی سمت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے احمد وحیدی کو پاسداران انقلاب کا سربراہ مقرر کیا، جبکہ سابق آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سربراہ بنایا گیا۔ مبصرین کے مطابق ان تقرریوں سے سخت گیر دھڑے کا اثر مزید مضبوط ہوا ہے۔
احمد وحیدی کو دی گئی ہدایات میں دشمن کے خلاف طاقتور جارحانہ کارروائیوں کے لیے تیاری بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تہران مستقبل کے ممکنہ تنازع میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ فعال فوجی حکمت عملی اختیار کرنا چاہتا ہے۔
امریکا پر دباؤ بڑھانے کی کوشش؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی قیادت کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال میں فوجی دباؤ برقرار رکھ کر امریکا سے مزید رعایتیں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ تہران کے لیے آبنائے ہرمز اس حکمت عملی کا مرکزی نقطہ بنی ہوئی ہے، کیونکہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔
ایران پہلے ہی آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ امریکی دباؤ اور پابندیوں نے ایرانی معیشت پر بھی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ اس صورتحال میں تہران کے اندر ایک دھڑا مذاکرات کے بجائے دباؤ بڑھانے کو زیادہ مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔
میزائل اور ڈرون صلاحیتوں پر بھی توجہ
ایران کی نئی حکمت عملی میں میزائل اور ڈرون پروگرام کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ حالیہ جنگی تجربات کے بعد ایرانی فوج نے اپنی کمانڈ ساخت میں تبدیلیاں کی ہیں تاکہ مختلف فوجی اداروں کے درمیان رابطہ اور فیصلہ سازی زیادہ تیز کی جاسکے۔
ایرانی حکام نے یہ اشارے بھی دیے ہیں کہ ضرورت پڑنے پر کارروائیوں کا دائرہ دشمن کی سرزمین تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ اس طرح کی دھمکیوں سے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات اور دیگر اتحادی اہداف کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
یمن اور عراق میں اتحادی گروپس کا کردار
ایران کی حکمت عملی صرف اس کی اپنی فوج تک محدود نہیں۔ یمن، عراق اور خطے کے دیگر حصوں میں موجود ایران نواز گروپس بھی کسی نئے تنازع کی صورت میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تہران طویل عرصے سے ان گروپس کو علاقائی دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرتا آیا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں ایران اپنی براہِ راست میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو بھی زیادہ اہمیت دے رہا ہے۔
کیا ایران واقعی جنگ کا رخ بدلنا چاہتا ہے؟
مبصرین کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کو فوری طور پر ایک نئی جنگ کے اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ اس کا ایک مقصد امریکا اور خطے کے دیگر ممالک پر نفسیاتی اور سیاسی دباؤ بڑھانا بھی ہوسکتا ہے۔
تاہم سخت گیر قیادت کی بڑھتی ہوئی گرفت، فوجی کمان میں تبدیلیاں، آبنائے ہرمز پر تنازع اور جارحانہ کارروائیوں کے مسلسل بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تہران طویل محاذ آرائی کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔
ایران کے نئے عسکری انداز کا اصل امتحان اب یہ ہوگا کہ آیا تہران اپنے جارحانہ بیانات کو عملی کارروائی میں تبدیل کرتا ہے یا انہیں امریکا سے مذاکرات میں دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔