ایران کی نئی حکمتِ عملی: ایٹمی پروگرام سے بھی زیادہ اہم ہرمز؟

فہرستِ مضامین

ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو اپنی سب سے بڑی اسٹریٹیجک طاقت قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ ایسا ہتھیار ہے جو ایک فیصلے سے پوری عالمی معیشت کو متاثر کر سکتا ہے۔

تہران میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران ابھی بھی امریکہ کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے بھیجی گئی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے فیصلے خود کرتا ہے اور کسی بیرونی ڈیڈ لائن یا دباؤ کو اہمیت نہیں دیتا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جواب کے لیے مقررہ وقت کے باوجود تہران نے واضح اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنی پالیسی جلد بازی میں تبدیل نہیں کرے گا۔

دوسری جانب ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا مسلسل یہ تاثر دے رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز اب ایران کی دفاعی حکمتِ عملی میں ایٹمی پروگرام جتنی اہم حیثیت اختیار کر چکی ہے۔

ایران کے سینئر رہنما محمد مخبر نے کہا کہ ماضی میں ایرانی قیادت نے اس اہم آبی گزرگاہ کی طاقت کو پوری طرح استعمال نہیں کیا، حالانکہ حقیقت میں یہ “ایٹم بم جتنی طاقت” رکھتی ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی ملک کے پاس ایسا اختیار ہو جو دنیا کی معیشت کو ایک فیصلے سے ہلا دے تو یہ غیر معمولی طاقت سمجھی جاتی ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اس کنٹرول سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا جو اس نے جنگ اور علاقائی کشیدگی کے دوران حاصل کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران آبنائے ہرمز کے انتظامی نظام کو بدلنے کے لیے بین الاقوامی اور داخلی دونوں راستے استعمال کرے گا۔

ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے بھی کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا اثر و رسوخ امریکی پابندیوں کو بے اثر بنانے میں مدد دے گا، خاص طور پر وہ پابندیاں جن کا مقصد ایرانی تیل کی فروخت روکنا ہے۔

ان کے مطابق:
“اب صورتحال بدل چکی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ اقدامات کے بعد ایران کا مؤقف پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے، اس لیے ہمیں مزید سخت پابندیوں کا خوف نہیں۔”

ایرانی سرکاری ٹی وی نے اس معاملے کو مذہبی اور تاریخی رنگ بھی دیا۔ ایک پروگرام میں آبنائے ہرمز کو جنگِ احد کے اُس درّے سے تشبیہ دی گئی جسے چھوڑنے کی وجہ سے مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

ٹی وی میزبان نے کہا:
“اگر ایران نے یہ اسٹریٹیجک راستہ چھوڑ دیا تو دشمن کو حملے کا موقع مل جائے گا، اس لیے دانشمند ایرانی کبھی اس راستے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔”

ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اور امریکی جنگی بحری جہازوں کے درمیان حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی بھی دیکھی گئی، جبکہ امریکہ ایران کی بندرگاہوں پر بحری دباؤ بڑھا رہا ہے۔

ایران کے اندر امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر بھی شدید بحث جاری ہے۔ سخت گیر حلقے کسی بڑے سمجھوتے کے خلاف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایران کو اپنے ایٹمی پروگرام یا میزائل صلاحیت پر کوئی رعایت نہیں دینی چاہیے۔

پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن علی خضریان نے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت کسی بھی قسم کے ایٹمی مذاکرات میں شامل نہیں اور امریکہ ممکنہ معاہدے کی بات صرف “جنگی ناکامیوں کو چھپانے” کے لیے کر رہا ہے۔

دوسری جانب بعض ایرانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ سے کسی بڑے معاہدے کی امید رکھنا “خواب اور فریب” کے سوا کچھ نہیں، اس لیے ایران کو مزید چین کی طرف جھکاؤ بڑھانا ہوگا۔

اسی تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی حال ہی میں چین کے دورے پر گئے، تاہم اندرونِ ملک انہیں بھی سخت تنقید کا سامنا ہے۔ بعض سخت گیر سیاستدان چاہتے ہیں کہ 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) سے وابستہ شخصیات کو مذاکراتی عمل سے مکمل طور پر الگ کر دیا جائے۔

مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز اب صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ ایران اور امریکہ کے درمیان طاقت، معیشت اور سفارتکاری کی نئی جنگ کا مرکزی محور بنتا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں