امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اور اگر ضرورت پیش آئی تو امریکا ایران کے خلاف فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
سنگاپور میں منعقدہ ایک اہم سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ایران کے ساتھ کشیدگی دوبارہ بڑھنے کی صورت میں امریکی افواج ہر قسم کی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس وافر اسلحہ اور دفاعی وسائل موجود ہیں اور فوج کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
پیٹ ہیگستھ نے ایران کے ساتھ ممکنہ سفارتی معاہدے کے حوالے سے کہا کہ ایسا کوئی بھی معاہدہ خوش آئند ہوگا جو خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنائے اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی خدشات کو دور کرے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا عالمی سلامتی اور استحکام کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا، تاہم اب واشنگٹن مزید امیر ممالک کے دفاعی اخراجات کا بوجھ برداشت نہیں کرے گا اور اتحادی ممالک کو بھی اپنی دفاعی ذمہ داریاں خود اٹھانا ہوں گی۔
چین سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ بحرالکاہل کے خطے میں کسی ایک ملک کی بالادستی طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین سمیت کوئی بھی ملک خطے پر مکمل غلبہ حاصل نہیں کر سکتا اور بیجنگ کو خطے میں امریکا کے کردار اور پوزیشن کا احترام کرنا ہوگا۔
پیٹ ہیگستھ کے بیان کو امریکا کی نئی دفاعی حکمت عملی اور ایران و چین کے حوالے سے سخت مؤقف کا عکاس قرار دیا جا رہا ہے۔