امریکا میں مصنوعی ذہانت کی دنیا کی دو بڑی شخصیات، ایلون مسک اور سیم آلٹمین، ایک اہم عدالتی معرکے میں آمنے سامنے آ گئے ہیں، جہاں اوپن اے آئی کے قیام اور اس کے مقصد پر شدید اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔
یہ مقدمہ اس سوال کے گرد گھومتا ہے کہ OpenAI کو 2015 میں ایک غیر منافع بخش ادارے کے طور پر بنایا گیا تھا، مگر بعد میں اسے منافع بخش ماڈل میں کیوں تبدیل کیا گیا۔ ایلون مسک، جو اس کے بانیوں میں شامل تھے، مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ کمپنی نے انسانیت کی خدمت کے اپنے بنیادی وعدے سے انحراف کیا۔
عدالت میں دوسرے روز گواہی دیتے ہوئے مسک نے کہا کہ انہیں وقت کے ساتھ یقین ہو گیا تھا کہ سیم آلٹمین اس ادارے کو غیر منافع بخش رکھنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 2022 کے آخر تک صورتحال یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ انہیں لگا کمپنی کو “قبضے” میں لیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ مسک نے 2015 سے 2017 کے درمیان تقریباً 38 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی تھی، تاہم وہ 2018 میں کمپنی سے الگ ہو گئے تھے۔
دوسری جانب OpenAI کی قانونی ٹیم نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی نے کبھی مستقل طور پر غیر منافع بخش رہنے کا وعدہ نہیں کیا تھا۔ وکلا کے مطابق مسک کا مقدمہ دراصل ان کے اپنے مصنوعی ذہانت کے منصوبے xAI کو فائدہ پہنچانے کی کوشش ہے۔
رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی جلد ابتدائی عوامی پیشکش (IPO) کی طرف بڑھ رہی ہے، جس سے اس کی مالیت ایک کھرب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ منافع بخش ڈھانچہ اپنانا جدید کمپیوٹنگ وسائل اور باصلاحیت افراد کو متوجہ کرنے کے لیے ضروری تھا۔
تاہم مسک نے اس موقف کو رد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں سرمایہ کاری کی پیشکش “رشوت” جیسی محسوس ہوئی۔ انہوں نے عدالت سے 150 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے، جو اوپن اے آئی کے فلاحی شعبے کو دیا جائے، اور ساتھ ہی عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ کمپنی کو دوبارہ غیر منافع بخش حیثیت میں لایا جائے اور سیم آلٹمین کے ساتھ شریک بانی گریگ بروک مین کو قیادت سے ہٹایا جائے۔
اوپن اے آئی، جو اب ایک پبلک بینیفٹ کارپوریشن کے طور پر کام کر رہی ہے، کا کہنا ہے کہ مسک کے الزامات دراصل مسابقتی دباؤ کا نتیجہ ہیں، کیونکہ ان کی کمپنی xAI ابھی تک صارفین کی تعداد کے لحاظ سے پیچھے ہے۔