ایک پلیٹ بریانی اور زندگی کا رخ بدل گیا، جاپانی شیف کی حیران کن کہانی

فہرستِ مضامین

ٹوکیو: ایک عام جاپانی دفتری ملازم، انڈیا کا ایک سفر اور بریانی کی ایک پلیٹ—یہ تین چیزیں مل کر تاکاماسا اوسوا کی زندگی کا رخ بدل گئیں۔ آج وہی شخص ٹوکیو میں صرف بریانی پر مشتمل ایک منفرد ریستوران چلا رہا ہے، جسے 2026 مائیکلین گائیڈ ٹوکیو میں Bib Gourmand اعزاز سے نوازا گیا ہے۔

ٹوکیو کے کاندا علاقے میں واقع ’بریانی اوسوا‘ صرف 10 نشستوں پر مشتمل ریستوران ہے، جہاں مینیو میں درجنوں کھانوں کے بجائے بنیادی توجہ ایک ہی ڈش، بریانی، پر ہے۔

مائیکلین گائیڈ کے مطابق ریستوران کو پہلی مرتبہ Bib Gourmand ملا ہے۔ یہ اعزاز ان مقامات کو دیا جاتا ہے جہاں معیاری کھانا مناسب قیمت کے مقابلے میں اچھی قدر فراہم کرتا ہو۔

مائیکلین اسٹار نہیں، مگر اہم اعزاز

مائیکلین اسٹار اور Bib Gourmand دو الگ اعزازات ہیں۔ اسٹار غیر معمولی کھانا پکانے کے معیار کو تسلیم کرتا ہے، جبکہ Bib Gourmand ایسے ریستورانوں کو دیا جاتا ہے جہاں اچھا کھانا مناسب قیمت پر دستیاب ہو۔

بریانی اوسوا کو یہ اعزاز اس کی خوشبودار باسمتی بریانی، نسبتاً کم تیل کے استعمال اور تمام مہمانوں کو تقریباً ایک ہی وقت پر کھانا پیش کرنے کے منفرد انداز پر ملا۔

2009 میں ایک پلیٹ نے سب کچھ بدل دیا

تاکاماسا اوسوا کسی روایتی کلنری اسکول سے تربیت یافتہ شیف نہیں تھے۔ تقریباً دو دہائیاں قبل وہ جاپان میں دفتری ملازمت کرتے تھے اور کھانا پکانا ان کے لیے محض شوق تھا۔

2009 میں تقریباً 20 برس کی عمر میں وہ چھٹیوں کے لیے انڈیا کے تمل ناڈو پہنچے۔ وہاں ایک ریستوران کے باہر انہوں نے پہلی مرتبہ ’بریانی‘ کا نام دیکھا۔ یہ ڈش ان کے لیے بالکل نئی تھی، لیکن چاول سے ان کی پہلے ہی دلچسپی تھی، اس لیے انہوں نے بریانی آرڈر کرلی۔

اس ایک پلیٹ نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔

اوسوا کے مطابق، ”اس بریانی نے میری زندگی بدل دی۔“

15 سال تک بریانی کی تلاش

جاپان واپس آنے کے بعد اوسوا نے خود بریانی بنانے کی کوشش کی، لیکن انہیں وہ ذائقہ حاصل نہ ہوسکا جو انہوں نے انڈیا میں چکھا تھا۔

پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ بریانی کو سمجھنے کے لیے صرف کتابیں کافی نہیں، بلکہ اس کے اصل مراکز تک جانا ہوگا۔

اگلے تقریباً 15 برسوں کے دوران انہوں نے انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش کے مختلف علاقوں کا سفر کیا۔ بڑے ہوٹلوں کے بجائے انہوں نے مقامی ریستورانوں، کینٹینز اور چھوٹی دکانوں میں بریانی کے طریقے سیکھے۔

وہ باورچیوں سے اجازت لے کر کچن میں کھانا بنتا دیکھتے اور خوشبو، ذائقے، ساخت اور رنگ سے بریانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہے۔

حیدرآباد سے بلوچستان تک اثرات

اس طویل سفر کے دوران اوسوا پر واضح ہوا کہ بریانی کی کوئی ایک شکل نہیں۔ مختلف علاقوں میں اس کے مصالحے، چاول، گوشت اور پکانے کے طریقے مختلف ہیں۔

وقت کے ساتھ انہوں نے مختلف روایات سے اثرات لے کر اپنا انداز تیار کیا۔ ان کی بریانی میں حیدرآبادی انداز، پاکستانی کھانوں اور بلوچ طرزِ پکوان کے اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں۔

وہ مختلف اقسام کے باسمتی چاول بھی آزماتے رہے اور بالآخر پنجاب سے آنے والے چاول کو اپنی بریانی کے لیے موزوں قرار دیا۔

حیرت انگیز طور پر ان کی پسندیدہ اب بھی حیدرآبادی بریانی ہے، جسے وہ ذائقوں کے بہترین توازن کی وجہ سے پسند کرتے ہیں۔

ریستوران سے پہلے گھر میں بریانی

جاپان واپس آکر اوسوا نے دوستوں کے لیے بریانی پکانا شروع کی۔ ٹوکیو میں ایک چھوٹا سا پاپ اپ بھی شروع کیا گیا، لیکن وہ زیادہ کامیاب نہ ہوسکا کیونکہ اس وقت جاپان میں زیادہ تر لوگ بریانی سے واقف ہی نہیں تھے۔

بعد میں انہوں نے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک گھر کرائے پر لیا اور وہاں تقریباً روزانہ بریانی بنانا شروع کردی۔

غلطیاں کرنا، لوگوں سے رائے لینا اور دوبارہ تجربات کرنا ہی ان کی اصل تربیت بن گئی۔

جاپانی ذائقے کے ساتھ بریانی کا تجربہ

اوسوا نے صرف روایتی بریانی کی نقل نہیں کی بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا کہ جاپان میں بریانی کا اپنا انداز کیوں نہ بنایا جائے؟

انہوں نے جاپانی اجزا کے ساتھ تجربات کیے۔ شِی ٹیکے مشروم کے ساتھ سویا ساس اور کچومر میں واسابی جیسے تجربات بھی کیے گئے۔

آخرکار 2021 میں ’بریانی اوسوا‘ نے باقاعدہ ریستوران کی شکل اختیار کرلی۔

یہاں سب کو ایک ساتھ کھانا کیوں ملتا ہے؟

ریستوران کا سب سے منفرد پہلو اس کا ایک ہی وقت میں کھانا پیش کرنے کا طریقہ ہے۔

مہمان U شکل کے کاؤنٹر پر بیٹھتے ہیں اور سب کے پہنچنے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد بریانی کے بڑے برتن کو آخری مرحلے میں پکایا جاتا ہے تاکہ چاول، گوشت، مصالحے اور خوشبو اپنی بہترین حالت میں میز تک پہنچیں۔

یعنی یہاں کھانا صرف ایک ڈش نہیں بلکہ ایک اجتماعی تجربہ ہے۔

ایک برتن، مگر برسوں کی تحقیق

اوسوا کی بریانی میں باسمتی چاول کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ چاول خوشبودار ہوں، دانے الگ رہیں اور تیل اتنا زیادہ نہ ہو کہ مصالحوں کا اصل ذائقہ دب جائے۔

بریانی کی تیاری میں درجہ حرارت، بھاپ، پیاز اور اجزا کی تہہ بندی تک پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔

ان کے نزدیک بریانی محض چاول اور گوشت کا مجموعہ نہیں بلکہ خوشبو، حرارت، وقت اور تہوں کا ایک مکمل تجربہ ہے۔

ایک جاپانی شیف، تین ممالک اور ایک ڈش

تاکاماسا اوسوا کی کہانی صرف ایک ریستوران کی کامیابی نہیں بلکہ کھانے کے ذریعے ثقافتوں کے ملنے کی داستان بھی ہے۔

انڈیا میں چکھی گئی ایک پلیٹ سے شروع ہونے والا سفر انہیں پاکستان اور بنگلہ دیش تک لے گیا، جہاں سے انہوں نے مختلف ذائقے سیکھے اور پھر انہیں جاپانی ذوق کے ساتھ جوڑ کر اپنی منفرد بریانی تیار کی۔

اب ان کی خواہش ہے کہ بریانی اوسوا کو جاپان سے باہر بھی متعارف کرایا جائے، خصوصاً دبئی میں ریستوران کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ مستقبل میں انڈیا کے شہر حیدرآباد میں بھی جگہ بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔

ایک عام دفتر سے شروع ہونے والا سفر، ایک پلیٹ بریانی سے بدلا اور بالآخر مائیکلین کے دروازے تک جا پہنچا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں