اسلام آباد: پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کو توانائی شعبے میں اصلاحات سے متعلق اہم یقین دہانیاں کرا دی ہیں، جن کے تحت آئندہ چند ماہ میں بجلی سبسڈی کا موجودہ طریقہ کار تبدیل کر دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جنوری 2027 سے 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے تمام صارفین کو یکساں سبسڈی دینے کا نظام ختم کر دیا جائے گا۔ اس کی جگہ ہدفی سبسڈی متعارف ہوگی جو صرف مستحق خاندانوں تک محدود رہے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئی سبسڈی کی تقسیم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ڈیٹا کی بنیاد پر کی جائے گی تاکہ صرف کم آمدنی والے گھرانے ہی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
ذرائع نے بتایا کہ موجودہ نظام میں بعض صارفین مختلف ناموں پر دو یا تین بجلی میٹر لگوا کر ہر میٹر کی کھپت 200 یونٹس سے کم رکھتے ہیں، جس کے ذریعے اضافی سبسڈی حاصل کی جاتی ہے۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ نئے ماڈل کے بعد اس قسم کے طریقوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
اس مقصد کے لیے حکومت بجلی صارفین کا ریکارڈ نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری (این ایس ای آر) سے منسلک کرنے پر کام کر رہی ہے۔ اس منصوبے میں عالمی بینک بھی تکنیکی معاونت فراہم کرے گا، جبکہ سبسڈی کی شفاف ادائیگی کے لیے ایک بیرونی کمپنی کے ذریعے نیا نظام تیار کیا جائے گا۔
دوسری جانب حکومت پنجاب میں نافذ کیے گئے ای آبیانہ ماڈل کو بھی وسعت دینے پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال سے اس نظام کو سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی متعارف کرانے کی تیاری جاری ہے۔
حکام کے مطابق آبپاشی کے پانی کے نرخوں میں بھی ایسی اصلاحات زیر غور ہیں جن کے ذریعے اخراجاتِ آپریشن اور دیکھ بھال کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی قیمتیں مقرر کی جائیں گی۔
ادھر اعلیٰ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو پاکستان ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت 20 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط ملنے کا امکان ہے۔ اس حوالے سے آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ 8 مئی 2026 کو واشنگٹن میں اہم اجلاس کرے گا۔