لندن: برطانیہ کے سابق وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے پارلیمنٹ کی رکنیت سے مستعفی ہونے اور اپنی نشست چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد شمالی لندن کے حلقے ہولبورن اینڈ سینٹ پینکراس میں ضمنی انتخاب ہوگا۔
سر کیئر اسٹارمر نے اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں گزشتہ 11 برسوں تک اپنے پارلیمانی حلقے کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا، جو ان کے لیے بڑے اعزاز اور فخر کی بات ہے۔ انہوں نے اپنے حلقے کو ملک کا بہترین پارلیمانی حلقہ بھی قرار دیا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق کیئر اسٹارمر نے کہا کہ اب وہ پارلیمانی سیاست سے الگ ہو کر اپنی توجہ بین الاقوامی امور پر مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مستقبل کے کام میں دفاع، سلامتی، تجارت اور ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبے شامل ہوں گے۔
سابق وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ وہ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے، کیونکہ یہ مسئلہ ان کے لیے طویل عرصے سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
کیئر اسٹارمر 2015 سے ہولبورن اینڈ سینٹ پینکراس کے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوتے رہے ہیں اور انہوں نے 2020 میں لیبر پارٹی کی قیادت سنبھالی تھی۔ بعد ازاں 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی کامیابی کے بعد وہ برطانیہ کے وزیراعظم بنے۔
رپورٹس کے مطابق ان کی پارلیمنٹ سے علیحدگی کے بعد ان کی خالی ہونے والی نشست پر ضمنی انتخاب کرایا جائے گا۔ کیئر اسٹارمر کے اس فیصلے کو برطانوی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ہی ان کے طویل پارلیمانی کیریئر کا بھی اختتام ہوگا۔