مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی کے اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ ٹیکنالوجی بڑی تعداد میں ملازمتوں کی نوعیت تبدیل کر سکتی ہے اور کئی شعبوں میں انسانی افرادی قوت کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔
اپنے بلاگ پر شائع کیے گئے مضمون میں بل گیٹس نے تجویز دی کہ ایسے مخصوص شعبے جن میں انسانی موجودگی ناگزیر ہے، وہاں ملازمتوں کو انسانوں کے لیے مختص رکھنے پر غور کیا جانا چاہیے تاکہ اے آئی اور روبوٹس مکمل طور پر انسانی کردار کی جگہ نہ لے سکیں۔
بل گیٹس نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح قدرتی ماحول کو محفوظ رکھنے کے لیے مخصوص علاقے مختص کیے جاتے ہیں، اسی طرح کچھ پیشوں میں انسانی کردار برقرار رکھنے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔
ان کے مطابق طب جیسے شعبوں میں انسانی ماہرین کی موجودگی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی ناقابل علاج بیماری کی تشخیص یا مریض کو کسی سنگین خبر سے آگاہ کرنے کا کام مکمل طور پر روبوٹ کے سپرد کردیا جائے تو یہ صورتحال انسانی لحاظ سے قابل قبول نہیں ہوگی۔
بل گیٹس نے دنیا بھر کی حکومتوں کو خبردار کیا کہ وہ اے آئی کے ممکنہ اثرات کے وسیع پیمانے کے لیے ابھی پوری طرح تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اے آئی کے حوالے سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر واضح فریم ورک اور قواعد و ضوابط تشکیل دینے کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی صرف ملازمتوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ قومی سلامتی، تعلیم، توانائی، انتخابات، ماحولیات، صحت عامہ، مالیاتی نظام، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ٹرانسپورٹ سمیت زندگی کے تقریباً ہر اہم شعبے کو متاثر کرسکتی ہے۔
بل گیٹس نے اے آئی کے عالمی اثرات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس سلسلے میں امریکہ اور چین کے درمیان تعاون اور رابطہ ضروری ہوگا۔
انہوں نے تعلیم کے شعبے پر بھی اے آئی کے اثرات کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا، تاہم ماضی میں وہ اس ٹیکنالوجی کے مثبت پہلوؤں کو بھی اجاگر کرتے رہے ہیں۔
مارچ 2025 میں ایک انٹرویو کے دوران بل گیٹس نے کہا تھا کہ اگلی دہائی میں اے آئی اتنی ترقی کرسکتی ہے کہ متعدد کاموں کے لیے انسانی ماہرین کی ضرورت نمایاں طور پر کم ہوجائے گی۔ ان کے مطابق اس وقت طب اور تعلیم جیسے شعبوں میں انسانوں کی ضرورت ہے، لیکن مستقبل میں اے آئی ڈاکٹرز اور اساتذہ کے بہت سے کام انجام دینے کے قابل ہوسکتی ہے۔
فروری 2025 میں بھی بل گیٹس نے کہا تھا کہ اے آئی ٹیکنالوجی تیزی سے عام زندگی کا حصہ بن رہی ہے اور مستقبل میں اس کے اثرات تقریباً ہر شعبے تک پہنچ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اے آئی اور ورچوئل اسسٹنٹس طبی تشخیص کے عمل کو بھی نمایاں طور پر بہتر بنا سکتے ہیں۔
بل گیٹس نے اے آئی کی تیز رفتار ترقی کو ایک جانب حیران کن قرار دیا، تاہم ساتھ ہی اس کی رفتار کو کچھ حد تک خوفزدہ کرنے والا بھی قرار دیا۔
ستمبر 2024 میں بھی بل گیٹس نے اے آئی کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی تعلیم اور طب میں پیشرفت کی رفتار کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اے آئی ایسی ٹیکنالوجی ہے جو ماہرین کی توقعات کے مقابلے میں بھی بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
انہوں نے اس وقت بھی خبردار کیا تھا کہ اے آئی کے باعث مختلف شعبوں میں کام کرنے والے افراد کی ملازمتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ طویل مدت میں اے آئی کام کے روایتی تصور کو تبدیل کرسکتی ہے، کاروباری ہفتے کا دورانیہ کم ہوسکتا ہے اور کل وقتی ملازمتوں پر انحصار بھی گھٹ سکتا ہے۔
بل گیٹس کے مطابق مستقبل میں ملازمت انسان کی زندگی کا اتنا مرکزی حصہ نہیں رہے گی جتنی آج ہے، اور وہ اس تبدیلی کو مجموعی طور پر ایک مثبت پیش رفت سمجھتے ہیں۔