بھٹو: انقلابی جنون سے مے خانے تک ایک دردناک سفر

فہرستِ مضامین

تحریر: شکیل سومرو

جنرل ضیاء کے مارشل لا کے دور میں اکثر دیواروں پر گرفتار سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی آزادی کے لیے چاکنگ دیکھی جاتی تھی۔ ڈہرکی میں اُس دور کے دوران کمیونسٹ پارٹی کے طلبہ ونگ کے سرگرم رہنما اختیار بھٹو کی صورت میں، کسی زندہ جاگتے انسان کے جسم پر پہنے ہوئے کپڑوں (قمیص) پر ریشمی دھاگے سے کڑھائی کی گئی چاکنگ میں نے پہلی بار دیکھی تھی۔
بچپن میں سیاسی و ادبی کتابیں پڑھتے ہوئے مولانا سندھی کی “ریشمی رومال تحریک” سے کچھ نہ کچھ شناسائی حاصل ہوئی تھی، مگر کسی زندہ انسان کی قمیص کے دونوں جانب “کمیونسٹ رہنما جام ساقی کو آزاد کرو” جیسی منفرد چاکنگ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔
مرحوم اختیار بھٹو ڈہرکی شہر کے مشہور تاجر اور زمیندار حاجی محمد حاصل بھٹو کے فرزند تھے۔ اس شخص کی کیا زبردست کمٹمنٹ تھی! سیاست اور انقلاب سے رومان کے اُس دور کا گویا ایک دیومالائی کردار تھا۔ ساری زندگی شادی نہیں کی۔
1983ء میں جب ایم آر ڈی تحریک اپنے عروج پر تھی، میں نویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ ہمارے محلے کے باہر روز جلوس نکلتے تھے۔ سیاسی کارکنوں کی پولیس سے جھڑپیں اور رضاکارانہ گرفتاریاں روز کا معمول بن چکی تھیں۔


جام ساقی کا نام میں نے پہلی بار کسی دیوار پر لکھی چاکنگ کے بجائے اختیار بھٹو کی قمیص پر کڑھائی کی صورت میں دیکھا۔ اختیار بھٹو ڈی ایس ایف کی طلبہ سیاست سے وابستہ تھے اور اُس وقت جام ساقی اپنے ساتھیوں سمیت جیل میں قید تھے۔ اختیار کے جسم پر پہنی ہوئی ہر قمیص کے دونوں طرف ریشمی دھاگے سے “جام ساقی کو آزاد کرو” لکھا ہوتا تھا۔
جب تک جام ساقی جیل میں رہے، میں نے اختیار کے ہر لباس پر یہی مطالبہ دیکھا۔ وہ زیادہ تر شلوار قمیص پہنتے تھے اور ان کی ہر قمیص گویا ایک سیاسی بینر بنی ہوئی ہوتی تھی۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن رہنماؤں کی آزادی کے لیے دیواروں پر چاکنگ کرتے تھے، مگر اختیار بھٹو کے احتجاج کا انداز سب سے مختلف اور نرالا تھا۔ انہوں نے اپنے لباس کو ہی احتجاج کا ذریعہ بنا دیا تھا۔
جنرل ضیاء کے سخت مارشل لا کے دور میں جمہوریت کی بحالی کی تحریک کے دوران یہ نوجوان اپنے ضعیف والد حاجی حاصل بھٹو اور دو بھائیوں ڈاکٹر ظفر بھٹو اور ڈاکٹر لیاقت بھٹو کے ساتھ سکھر سینٹرل جیل میں قید رہے۔


اختیار بھٹو کی گرفتاری کے حوالے سے اُس وقت ایک قصہ بہت مشہور ہوا تھا کہ جب انہیں سکھر سینٹرل جیل میں سمری ملٹری کورٹ کے جج کے سامنے پیش کیا گیا تو غیر ضروری سوالات پر وہ جج سے الجھ پڑے۔ کہا جاتا ہے کہ اسی “جرأت” کی سزا کے طور پر انہیں اپنے والد اور بھائیوں سمیت مزید چھ ماہ قید بھگتنا پڑی۔
1980ء کی دہائی اگر دیکھی جائے تو تقسیمِ ہند کے بعد کی تاریخ میں ایک اہم اور تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ اس دہائی کے اختتام پر جب سوویت یونین ٹوٹا تو سندھ کے کئی کمٹڈ سیاسی کارکن سوکھے پتوں کی طرح آہستہ آہستہ بکھر گئے۔
کچھ اخبارات کی دنیا میں چلے گئے، کچھ این جی اوز کی طرف مڑ گئے، جبکہ اختیار بھٹو جیسے نظریاتی کارکن مے خانے کے مسافر بن گئے۔ اپنے تعلیمی کیریئر میں کلاس میں پوزیشن لینے والے اختیار بھٹو، ایک بار بکھرے تو پھر سنبھل نہ سکے۔ بڑے خاندان، دوستوں اور ساتھیوں کے باوجود وہ بے بسی کے عالم میں زندگی سے ہار گئے۔
سچ پوچھیں تو اختیار جیسے کارکن کی بے وقت موت کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔


کامریڈ جام ساقی اور غلام رسول سہتو سمیت بائیں بازو کے کئی کارکنوں کے لیے اختیار بھٹو اور ان کے بھائی ڈاکٹر ظفر بھٹو کا گھر ایک مرکز کی حیثیت رکھتا تھا، جہاں رات بھر سیاسی بیٹھکیں اور بحثیں ہوا کرتی تھیں۔
سندھ قومی اتحاد تک میں نے اختیار کو سیاسی طور پر متحرک دیکھا۔ وہ مظاہروں اور جلسوں میں شریک ہوتے تھے۔ امر لال، محمد خان سولنگی، سجن بھٹو (شبیر بیدار بھٹو) اور کامریڈ مانڈھل شر ان کے ساتھی تھے۔
جام ساقی جب جیل سے آزاد ہو کر سکھر ضلع (اس وقت گھوٹکی اُس کا حصہ تھا) کے دورے پر آتے تو رات کو اختیار کے ہاں قیام کرتے۔ کامریڈ غلام رسول سہتو بھی وہیں ٹھہرتے تھے۔
صوفیانہ راگ اختیار کی کمزوری تھا۔ عابدہ پروین، ڈھول فقیر، سہراب فقیر، سنگھار علی سلیم اور شفیع فقیر کے راگ پر وہ دھاڑیں مار کر رو پڑتے تھے۔


2005-06ء میں مانڈھل شر کی ماڑی پر گھنٹوں محفلیں جمتی تھیں۔ ایک بار اختیار نے مجھ سے سائیں جی ایم سید کی کتاب “دیارِ دل اور داستانِ محبت” مانگی، جو میں گھر سے لا کر انہیں دے آیا۔ پھر انہوں نے صوفیانہ راگ سننے کی فرمائش کی۔
میرا جب بھی کراچی سے ڈہرکی جانا ہوتا، اختیار سے ملاقات لازمی ہوتی تھی۔ وہ ہمیشہ کہتے کہ صدر کے مشہور کتاب گھر “تھامس اینڈ تھامس” سے فلاں کتاب لیتے آنا۔ ان کی آخری فرمائش “If I Am Assassinated” تھی۔
زندگی کے آخری برسوں میں اختیار ملامتی صوفی بن گئے تھے۔ اپنی زمین کے ایک کونے میں مے خانہ بنا کر بیٹھ گئے تھے۔
جب میں اپنے ماموں زاد رحمان تاج کے ساتھ اپنے چھوٹے بھائی خلیل کی شادی کی دعوت دینے گیا تو ان کی حالت دیکھ کر حیران رہ گیا۔ ٹوٹی ہوئی چارپائی، پاس بندھا ہوا کتا، چہرے پر مٹی، اور عجیب سی حالت—بالکل ملامتی صوفیوں جیسی۔
مجھے دیکھ کر بولے:
“اگر رپورٹر ہو تو واپس چلے جاؤ، اگر فقیر بن کر آئے ہو تو اندر آؤ!”
اندر جانے کے بعد انہوں نے کھانے میں مٹی ڈال کر کہا:
“اب میرے ساتھ بیٹھ کر کھا سکتے ہو!”
یہ منظر دیکھ کر میری آنکھیں بھر آئیں۔


اختیار کی حالت نے مجھے حشو کیولرامانی کی یاد دلائی، ایک عظیم دانشور، جو آخرکار مفلسی میں گم ہو گیا۔
آج بھی ایسے کئی اختیار اور حشو سندھ کے کسی نہ کسی کونے میں گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ سیاسی جمود نے انہیں مے خانوں کی طرف دھکیل دیا ہے۔ کچھ انتہا پسندی کی طرف بھی چلے گئے ہیں۔
سچ یہ ہے کہ سیاسی لاتعلقی کسی بھی زندہ معاشرے کے لیے موت کا سگنل ہوتی ہے۔
حشو جیسے جینئیس لوگوں اور اختیار بھٹو جیسے کمٹڈ سیاسی کارکنوں کو بے وقت موت کے منہ سے بچانے کا ایک ہی راستہ ہے:
سیاسی جدوجہد کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں