مرتب: شکیل سومرو
سندھ کی سیاسی تاریخ میں کچھ ایسے لمحات ہیں جو محض واقعات نہیں ہوتے بلکہ طاقت، نفسیات اور سماجی ڈھانچے کی گہری عکاسی کرتے ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور خان بہادر ایوب کھوڑو کے درمیان 1971ء میں ہونے والی خط و کتابت بھی ایسا ہی ایک نادر دستاویز ہے، جو ذاتی رنجشوں کو سیاسی فلسفے سے جوڑ کر پیش کرتا ہے۔
یہ خطوط ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو کی کتاب
“Muhammad Ayub Khuhro: A Life of Courage in Politics”
میں محفوظ ہیں، جو دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ تعلقات کو بے نقاب کرتے ہیں۔
1971ء پاکستان کی تاریخ کا فیصلہ کن سال تھا۔ مشرقی پاکستان میں بحران، اقتدار کی کشمکش اور سیاسی بے چینی اپنے عروج پر تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو ایک نئی سیاسی لہر (سوشلزم اور عوامی سیاست) کے نمائندے کے طور پر ابھر رہے تھے۔
یہ خط دراصل دو نسلوں، دو سوچوں اور دو سیاسی فلسفوں کا ٹکراؤ ہے۔
بھٹو کا خط: الزامات اور تلخ یادیں

ذوالفقار علی بھٹو اپنے خط میں ایوب کھوڑو پر سخت تنقید کرتے ہوئے متعدد الزامات لگاتے ہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ ، 17 ستمبر کو آپ نے مجھے اپنی بیٹی حمیدہ کھوڑو کے نامناسب رویے پر معذرت نامہ بھیجا، مگر اس میں ایک باعزت شخص کے خلاف استعمال کیے گئے الفاظ کو نظرانداز کر دیا گیا۔
بھٹو مزید لکھتے ہیں کہ گزشتہ ساٹھ برسوں سے ان کے خاندان کے ساتھ کھوڑو کا رویہ دشمنی پر مبنی رہا ہے، اور یہ بات صدر یحییٰ خان کو لکھے گئے کھوڑو کے خط سے بھی ظاہر ہوتی ہے، جس میں انہوں نے 11 ستمبر کو قائداعظم کے مزار پر بھٹو کی تقریر کے باعث ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔
بھٹو اسے “بزدلی اور منافقت” قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کھوڑو کو اچھی طرح جانتے ہیں اور ان کی ذاتی و سیاسی زندگی سے واقف ہیں۔
سر شاہنواز بھٹو اور پرانی دشمنیاں:
بھٹو اپنے والد سر شاہنواز بھٹو اور ایوب کھوڑو کے درمیان پرانے تنازعات کا تفصیل سے ذکر کرتے ہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ کھوڑو نے 1923ء سے لے کر انتخابات میں مسلسل سازشیں کیں، لیکن 1937ء تک سر شاہنواز بھٹو عوامی حمایت حاصل کرتے رہے۔
بھٹو دعویٰ کرتے ہیں کہ:
ان کے والد نے کئی مواقع پر کھوڑو کی مدد کی، اللہ بخش سومرو قتل کیس میں بھی ان کا ساتھ دیا، بیگم کھوڑو نے خود سر شاہنواز بھٹو سے مدد کی درخواست کی
اس کے باوجود بھٹو کے مطابق کھوڑو نے ہمیشہ دشمنی کا رویہ برقرار رکھا۔
کھوڑو کا جواب: دفاع اور جوابی حملہ
4 اکتوبر 1971ء کو ایوب کھوڑو نے دس صفحات پر مشتمل تفصیلی جواب دیا، جس میں انہوں نے بھٹو کے الزامات کو سختی سے رد کیا۔
کھوڑو لکھتے ہیں کہ:
بھٹو کا خط غیر مہذب اور غلط معلومات پر مبنی ہے، ان کی تقاریر اشتعال انگیز تھیں اور عوام کو تشدد پر اکساتی تھیں، وہ ملک کو مشرقی پاکستان جیسے بحران سے بچانا چاہتے تھے
کھوڑو کے مطابق انہوں نے صدر یحییٰ خان کو کوئی نئی بات نہیں لکھی بلکہ حالات کی عکاسی کی۔
تاریخی بیانیہ پر اختلاف
کھوڑو نے بھٹو کے تاریخی دعوؤں کو بھی چیلنج کیا۔
انہوں نے کہا:
ان کی سر شاہنواز بھٹو سے پہلی ملاقات مدرسے میں ہوئی، سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کے مسئلے پر ہی اصل اختلاف پیدا ہوا
1928ء کے فسادات میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا
“جاگیردار سوشلسٹ” کا طنز
کھوڑو نے بھٹو پر سب سے سخت تنقید ان کے سوشلسٹ دعوے پر کی۔
وہ لکھتے ہیں:
“آپ خود جاگیردار ہیں مگر سوشلسٹ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں”
انہوں نے مزید کہا کہ:
بھٹو کے پاس کراچی، لاڑکانہ اور نوڈیرو میں جائیدادیں ہیں، اگر وہ حقیقی سوشلسٹ ہوتے تو اپنی زمینیں غریبوں میں تقسیم کر دیتے
کھوڑو نے مولانا کوثر نیازی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ،
“آپ جاگیردار ہیں، لیکن سوشلسٹ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں
یہ خطوط محض دو افراد کے درمیان ذاتی جھگڑا نہیں بلکہ سندھ اور پاکستان کی سیاست میں جاری طبقاتی، نظریاتی اور شخصی تضادات کی عکاسی ہیں۔
یہ ہمیں بتاتے ہیں کہ سیاست میں ذاتی تعلقات، تاریخی یادیں اور نظریاتی دعوے کس طرح ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہو جاتے ہیں۔