تہران میں علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ادا، مجتبیٰ خامنہ کو اجازت کیوں نہ ملی؟

فہرستِ مضامین

تہران: امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تعزیتی تقریبات کے دوسرے روز تہران میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جہاں انہیں آخری الوداع کہنے کے لیے لاکھوں افراد جمع ہوئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نمازِ جنازہ تہران کے گرینڈ مصلیٰ کمپلیکس میں ممتاز شیعہ عالم آیت اللہ جعفر سبحانی نے پڑھائی۔ 97 سالہ عالمِ دین ایران کے مذہبی شہر قم کے معروف دینی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

علی خامنہ ای کے بیٹے اور نئے نامزد سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نمازِ جنازہ میں شریک نہیں ہوئے۔ وہ 28 فروری کے حملے میں زخمی ہونے کی اطلاعات کے بعد سے اب تک عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔ تاہم خامنہ ای کے دیگر تین بیٹے مسعود، مصطفیٰ اور میثم جنازے میں موجود تھے۔

ایرانی حکومت نے اتوار کے روز ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا تھا۔ حکام کے مطابق خامنہ ای کی میت کو بعد ازاں گرینڈ مصلیٰ سے منتقل کیا جائے گا، جہاں عوام کے آخری دیدار کے بعد پیر کو تہران میں مرکزی جنازہ جلوس نکالا جائے گا۔

عینی شاہدین کے مطابق صبح سے ہی گرینڈ مصلیٰ اور اس سے ملحقہ شاہراہیں سوگواروں سے بھر گئی تھیں۔ شدید گرمی اور درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کے خدشے کے باعث شرکاء میں پانی اور ٹھنڈے مشروبات بھی تقسیم کیے گئے۔ شرکاء ایرانی پرچم اور علی خامنہ ای کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔

علی خامنہ ای کا تابوت ایرانی پرچم میں لپٹا ہوا تھا جبکہ اس پر ان کا سیاہ عمامہ رکھا گیا تھا۔ ان کے ساتھ چار دیگر رشتہ داروں کے تابوت بھی موجود تھے، جو فروری کے حملوں میں مارے گئے تھے، جن میں ایک شیر خوار بچی بھی شامل تھی۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تعزیتی تقریبات اور جنازے میں شرکت کرنے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر سکتی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں