تہران میں علی خامنہ ای کے جنازے میں لاکھوں افراد کی شرکت، امریکہ اور اسرائیل کے خلاف انتقام کے نعرے

فہرستِ مضامین

تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے تیسرے روز بھی تہران میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، جہاں سوگ کی فضا کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید غم و غصہ بھی دیکھنے میں آیا۔ ایرانی حکام نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف انتقام لینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ فراموش نہیں کیا جائے گا۔

دو روز تک تہران کے عظیم مذہبی مرکز گرینڈ مصلیٰ میں عوامی دیدار کے بعد پیر کے روز علی خامنہ ای کے جسد خاکی کو 12 گھنٹے طویل جنازہ جلوس کے لیے روانہ کیا گیا۔ جلوس کے راستوں پر لاکھوں شہری موجود تھے، جنہوں نے اپنے رہنما کو اشک بار آنکھوں سے الوداع کہا۔

86 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای تقریباً 37 برس تک ایران کے سپریم لیڈر رہے۔ ایرانی حکام کے مطابق وہ 28 فروری کو ایران پر ہونے والے فضائی حملے میں جاں بحق ہوئے تھے، جسے تہران اسرائیل کی کارروائی قرار دیتا ہے۔

ریاستی میڈیا کے مطابق تہران کے امام حسین اسکوائر میں جمع ہونے والے مظاہرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پتلا نذرِ آتش کیا، جبکہ متعدد افراد نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں، جن پر “خون کا بدلہ خون” اور انتقام سے متعلق نعرے درج تھے۔

اتوار کے روز بھی ہزاروں افراد گرینڈ مصلیٰ پہنچے تھے تاکہ علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کر سکیں۔ ان کے ساتھ ان کی صاحبزادی، داماد، بہو اور 14 ماہ کی پوتی کی میتیں بھی موجود تھیں، جو ایرانی حکام کے مطابق اسی حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔

ایرانی حکومت ان ہفتہ بھر جاری رہنے والی آخری رسومات کو قومی اتحاد اور استقامت کی علامت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا کہ “اسلامی ایران کی ناقابلِ شکست قوم نے اپنے شہید رہنما کو جس اتحاد کے ساتھ خراجِ عقیدت پیش کیا، وہ پوری دنیا کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔”

جنازے کی تقریبات کا سلسلہ پیر کو تہران، منگل کو قم، بدھ کے روز عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا جبکہ جمعرات کو مشہد میں تدفین کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا، جہاں علی خامنہ ای کو سپردِ خاک کیا جائے گا۔

اتوار کے روز علی خامنہ ای کے تین بیٹے پہلی مرتبہ عوامی سطح پر جنازے میں شریک ہوئے، تاہم نئے سپریم لیڈر قرار دیے جانے والے مجتبیٰ خامنہ ای اب تک منظرِ عام پر نہیں آئے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے والد پر ہونے والے حملے میں زخمی ہوئے تھے، تاہم ان کی صحت کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے پیشرو رہنماؤں میں سے کوئی بھی اب تک جنازے کی تقریبات میں نظر نہیں آیا، حالانکہ ماضی میں ان کے اور علی خامنہ ای کے درمیان سیاسی اختلافات موجود رہے تھے۔

اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی برقرار ہے، تاہم دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو خبردار کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر دوبارہ عسکری کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اسی تناظر میں علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران “انتقام” کا موضوع نمایاں رہا۔

ایرانی بری فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ “جن لوگوں نے یہ جرم کیا ہے، انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ ایرانی قوم اور ہماری مسلح افواج انصاف کے حصول اور اس جرم کے ذمہ داروں کو سزا دلوانے کی جدوجہد کبھی نہیں چھوڑیں گی۔”

جنازے میں شریک 38 سالہ ایک شہری نے بھی کہا کہ “علی خامنہ ای کے قاتلوں کو ہر صورت اپنے انجام تک پہنچایا جائے گا۔”

واضح رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای اپنی قیادت کے دوران مغربی ممالک کے خلاف سخت مؤقف رکھتے تھے، جبکہ ایران نے برسوں سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل مخالف گروہوں، جن میں فلسطینی تنظیم حماس اور لبنان کی حزب اللہ شامل ہیں، کی حمایت جاری رکھی۔ ان دونوں تنظیموں کے نمائندہ وفود نے بھی آخری رسومات میں شرکت کی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں