امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ ایران کے اندر سخت گیر اور معتدل دھڑوں کے درمیان اختلافات موجود ہیں، جو مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ تاہم امریکی اور اسرائیلی حکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں کوئی منظم اندرونی تقسیم موجود نہیں۔
ان حکام کے مطابق اصل مسئلہ ایرانی نظام کے اندر کسی دھڑے بندی کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ تہران کسی بھی قسم کی سفارتی یا سیاسی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں۔ یہ بات امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نے ہفتے کے روز رپورٹ کی۔
سیکیورٹی امور سے واقف ذرائع اور اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس کے شعبہ تحقیق و تجزیہ (RAD) کے ایران ڈیسک کے سابق سربراہ نے بھی اس رائے سے اتفاق کیا ہے کہ اگرچہ جنگ کے بعد ایران کے فیصلہ سازی کے ڈھانچے میں کچھ تبدیلیاں آئی ہیں، تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ وہاں واضح اور گہری اندرونی تقسیم موجود ہے۔
“واضح تقسیم کے شواہد نہیں”
ایک علاقائی انٹیلی جنس ذریعے نے بتایا کہ ایران کے اندر حکمتِ عملی اور ترجیحات پر معمولی اختلافات ہو سکتے ہیں، لیکن اعلیٰ سطح پر کوئی واضح تقسیم یا ٹوٹ پھوٹ کے شواہد موجود نہیں۔
اس کے برعکس ایک اسرائیلی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے بعد ایران کمزور ضرور ہوا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ صورتحال کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، چاہے وہ سفارت کاری کے ذریعے ہوں یا دیگر ذرائع سے۔
جنگ کے بعد صورتحال
یاد رہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے دوران ایران کو اپنے متعدد اہم سیاسی اور عسکری رہنماؤں کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جس سے اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے پر اثرات مرتب ہوئے۔
ذرائع کے مطابق اس دوران اعلیٰ قیادت میں بھی تبدیلیاں آئیں اور فیصلہ سازی کا دائرہ محدود ضرور ہوا، تاہم نظام اب بھی ریاستی امور کو چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں اور جاری تعطل
ادھر پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے، تاہم دونوں فریق اپنی اپنی شرائط پر سختی سے قائم ہیں۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کی افزودگی کے حق اور میزائل پروگرام سے دستبردار نہیں ہوگا، جبکہ مذاکرات کی بحالی کو امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کیا ہے۔
دوسری جانب امریکہ اس وقت تک پابندیوں میں نرمی کے لیے تیار نہیں جب تک آبنائے ہرمز کے معاملے پر پیش رفت نہیں ہوتی اور اس کے مطالبات کے مطابق جامع معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔