رپورٹ: محسن خاصخیلی
ایرانی سفیر اکبر عیسا زادہ نے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس وقت ایک “جنگی صورتحال” سے گزر رہا ہے اور اس کا قوم کی سطح پر بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔
یہ خطاب پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز میں منعقدہ ایک سیمینار کے دوران کیا گیا، جہاں انہوں نے تعلیمی و سفارتی حلقوں کے سامنے ایران کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی مؤقف پیش کیا۔
ہم دفاع کا حق رکھتے ہیں
ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے جارحیت کی جا رہی ہے اور ان کے مطابق یہ ان کے ملک کے دفاع کا جائز حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی پوری قوم اس صورتحال میں اپنی حکومت اور ریاست کے ساتھ کھڑی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی سرزمین اور عوام کا دفاع کر رہا ہے اور یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا کے سامنے اپنے مؤقف کو واضح کرے۔
عالمی سیاست اور الزامات
اکبر عیسا زادہ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی انقلابی کامیابیوں کے بعد بعض طاقتیں اس کے خلاف سرگرم ہیں اور “رجیم چینج” کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے بعض تجزیہ کاروں کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایران پر فضائی حملوں کا تصور کیا گیا تھا لیکن ایران نے غیر متوقع مزاحمت دکھائی۔
ان کے مطابق خطے کو چاہیے کہ وہ ایران کے ساتھ کھڑا ہو اور یکطرفہ جارحیت کی مخالفت کرے۔
جنگ اور دفاعی دعوے
ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران پر مختلف مراحل میں حملے کیے گئے، جن میں دھمکیاں، فوجی دباؤ اور سائبر و سوشل میڈیا مہمات شامل ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے نہ صرف دفاعی نظام کو مضبوط بنایا بلکہ ڈرونز اور میزائل ٹیکنالوجی کے ذریعے جواب بھی دیا۔
ان کے مطابق ایران کا دفاعی نظام اب پہلے سے زیادہ مضبوط ہے اور پابندیوں نے اسے ٹیکنالوجی میں خود کفالت کی طرف دھکیلا ہے۔
علاقائی صورتحال اور عالمی نظام پر تنقید
خطاب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی نظام طاقت کے اصول پر چل رہا ہے، جہاں بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے خلاف کارروائیوں کے باوجود ملک نہ صرف برقرار ہے بلکہ مزید مضبوط ہوا ہے۔
آبنائے ہرمز کا ذکر
ایرانی سفیر نے آبنائے ہرمز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اہم سمندری راستے کی صورتحال خطے کی کشیدگی سے متاثر ہوئی ہے، اور ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کرتا رہے گا۔
اکبر عیسا زادہ نے کہا کہ ایران کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں اور اپنی خودمختاری، عوام اور دفاعی صلاحیتوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔