جدہ میں خلیجی رہنماؤں کی ملاقات—خطے کی جنگ پر مشترکہ حکمت عملی زیر غور

فہرستِ مضامین

جدہ میں ہونے والا اعلیٰ سطحی خلیجی تعاون کونسل (GCC) کا سربراہی اجلاس خطے میں جاری جنگ کے حوالے سے ’’متحدہ خلیجی مؤقف‘‘ کی عکاسی کرتا ہے، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے کہا ہے۔

یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث پورا خطہ ایک نئے بحران سے دوچار ہے۔ یہ دو ماہ قبل شروع ہونے والی اس کشیدگی کے بعد خلیجی رہنماؤں کی پہلی براہ راست ملاقات تھی۔

سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہونے والے اس اجلاس میں خلیج تعاون کونسل کے رہنماؤں کا استقبال سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کیا۔ سعودی پریس ایجنسی (SPA) کے مطابق اجلاس میں علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال، اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں کویت کے ولی عہد شیخ صباح الخالد، بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سمیت دیگر اعلیٰ رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد شیخ تمیم نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ سربراہی اجلاس خلیجی ممالک کے ’’متحدہ مؤقف‘‘ کی نمائندگی کرتا ہے، اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے سفارتی کوششوں اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے۔

یہ ملاقات ایسے موقع پر ہوئی جب امریکہ ایران کی اس تجویز پر غور کر رہا ہے جس میں جنگ کے خاتمے اور اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی بات شامل ہے۔ یہ گزرگاہ عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس گزرتی ہے۔

خلیج تعاون کونسل کے چھ رکن ممالک—بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات—نے اس بات پر زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولا جائے اور کسی بھی ممکنہ معاہدے کو مستقل اور طویل المدتی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے۔

اسی دوران جدہ اجلاس کے ساتھ ہی متحدہ عرب امارات کے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کے اعلان نے بھی عالمی توانائی منڈی میں ہلچل پیدا کر دی، جسے تیل برآمد کرنے والے ممالک کے اتحاد کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے اجلاس سے قبل خبردار کیا کہ خلیجی خطے کو کسی ’’منجمد تنازع‘‘ کی طرف نہیں جانا چاہیے۔ ان کے مطابق خطے میں ایسا بحران نہیں ہونا چاہیے جو وقتی طور پر خاموش ہو جائے مگر سیاسی حالات کے ساتھ دوبارہ بھڑک اٹھے۔

جنگ کے دوران ایران نے خلیجی ممالک کے اہم توانائی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا، جبکہ ان ممالک نے زیادہ تر دفاعی حکمت عملی اپنائے رکھی۔ امریکی مفادات سے جڑے ادارے، شہری تنصیبات اور فوجی اڈے بھی حملوں کی زد میں آئے۔

8 اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد حملوں میں کمی آئی ہے، تاہم خطے میں بداعتمادی اور کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔ خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی مستقل معاہدہ نہ ہوا تو صورتحال دوبارہ بگڑ سکتی ہے، جو عالمی توانائی اور سلامتی دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں