ایران اور امریکہ-اسرائیل کشیدگی کے تناظر میں خطے میں سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں، جہاں پاکستان اور عمان پس پردہ رابطوں کے ذریعے کسی نئی جنگ کو روکنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پیر کے روز روس پہنچ گئے، جہاں وہ صدر ولادیمیر پیوٹن سے اہم ملاقات کریں گے۔ تہران کی جانب سے جاری سفارتی مہم کا مقصد جاری تنازع کا حل تلاش کرنا اور خطے میں کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
روسی دارالحکومت پہنچنے پر ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ان کا دورہ تہران اور ماسکو کے درمیان علاقائی و عالمی امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر پیوٹن سے ملاقات جنگ کی تازہ صورتحال اور آئندہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کا اہم موقع فراہم کرے گی۔
اس سے قبل عراقچی نے عمان کے دارالحکومت مسقط میں اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں، جہاں ایران نے مذاکرات کی بحالی کے لیے علاقائی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔
یاد رہے کہ 8 اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان ایک عارضی جنگ بندی طے پائی تھی، جو ایک ماہ سے زائد جاری رہنے والی لڑائی کے بعد عمل میں آئی۔ اس جنگ کا آغاز امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے ہوا تھا، تاہم پاکستان کی ثالثی سے ہونے والی اس جنگ بندی کو اب مختلف تنازعات نے کمزور کر دیا ہے۔
آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی، اور اسرائیل-لبنان کشیدگی جیسے عوامل نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق روس آئندہ مرحلے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ تہران سے رپورٹس کے مطابق ایران بیک وقت سفارتی حل اور ممکنہ تصادم، دونوں پہلوؤں پر حکمت عملی تیار کر رہا ہے، جبکہ جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی صورتحال سرفہرست نکات ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کے لیے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کُشنر کو اسلام آباد بھیجنے کا منصوبہ منسوخ کر دیا، جس کی وجہ انہوں نے ایرانی قیادت کے اندرونی اختلافات کو قرار دیا۔
ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، ایران مذاکرات کی میز پر نہیں آئے گا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ناکہ بندی جاری ہے اور اب تک 38 بحری جہازوں کو ایرانی پانیوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے سے روکا جا چکا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران نے کچھ پیشکشیں ضرور کی ہیں مگر وہ ناکافی ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران مذاکرات دوبارہ شروع کرنا چاہے تو رابطہ کر سکتا ہے۔
پاکستانی حکام اس تمام صورتحال میں پرامید دکھائی دیتے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ پیش رفت نے مستقل امن کی ضرورت کو مزید اجاگر کیا ہے، جبکہ اسلام آباد میں ایک ایسے فریم ورک پر کام جاری ہے جس میں نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ خلیجی ممالک بھی شامل ہو سکیں۔